نیویارک کی عدالت کے باہرخودسوزی سےایک شخص ہلاک، عدالت میں ٹرمپ کےخلاف مقدمہ زیرِسماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نیویارک کی عدالت کے باہر جمعہ کو ایک شخص خودسوزی کر کے ہلاک ہو گیا جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کا تاریخی رشوت ستانی کا مقدمہ زیرِ سماعت تھا لیکن حکام نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ وہ ٹرمپ کو نشانہ بنا رہا تھا۔

یہ شخص عدالت کے باہر لگے ہوئے ٹیلی ویژن کیمروں کے مکمل منظر میں کئی منٹ تک آگ میں جلتا رہا جہاں کسی سابق امریکی صدر کے خلاف پہلی مرتبہ مجرمانہ مقدمہ چل رہا ہے۔

این بی سی نیوز اور دیگر امریکی میڈیا نے ہفتے کی صبح بتایا کہ اس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ این بی سی نیوز نے نیویارک سٹی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اس ہسپتال نے اسے مردہ قرار دے دیا تھا جہاں اس شخص کو لے جایا گیا۔

حکام نے پہلے کہا تھا کہ اس شخص کی حالت تشویشناک تھی جس کی عمر 30 کی عشرے کے اواخر میں تھی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ اپنے اوپر مائع چھڑک کر آگ لگانے سے قبل اس شخص نے ایک بیگ سے پمفلٹ نکالے اور انہیں ہوا میں اچھال دیا۔ ان میں سے ایک پمفلٹ میں "برے ارب پتی" کا حوالہ بھی شامل تھا لیکن وہ حصے جو رائٹرز کے گواہ کو نظر آئے، ان میں ٹرمپ کا ذکر نہیں تھا۔

نیویارک محکمہ پولیس نے کہا کہ وہ شخص جس کی شناخت انہوں نے سینٹ آگسٹین، فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے میکس ازاریلو کے طور پر کی ہے، ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ ٹرمپ یا مقدمے میں شامل دیگر افراد کو نشانہ بنا رہا تھا۔

محکمہ پولیس کے ڈپٹی کمشنر تارک شیپرڈ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "ابھی ہم اسے ایک سازشی نظریئے کے حامل کے طور پر بیان کر رہے ہیں اور ہم وہاں سے جا رہے ہیں۔"

ایک آن لائن منشور میں اسی نام کا استعمال کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ اس نے خودسوزی کر لی اور دوستوں، گواہوں اور جائے وقوع پر پہنچنے والے اولین افراد سے معافی مانگی۔ پوسٹ میں ایک "الہامی فسطائی بغاوت" سے خبردار کیا گیا اور کرپٹو کرنسی اور امریکی سیاست دانوں پر تنقید کی گئی ہے لیکن خاص طور پر ٹرمپ کو الگ نہیں کیا گیا ہے۔

رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پلازا میں دھوئیں کی بو پھیلی ہوئی تھی اور ایک پولیس افسر نے زمین پر آگ بجھانے والا سپرے کیا۔ ایک دھوئیں کے ساتھ سلگتا ہوا بیگ اور ایک گیس کا ٹین نظر آ رہے تھے۔

مین ہٹن عدالت جہاں پولیس کی بھاری نفری حفاظت کے لیے تعینات تھی، وہاں پیر کے روز مقدمے کے پہلے دن مظاہرین اور تماشائیوں کا ایک ہجوم کھنچا چلا آیا۔البتہ اس کے بعد سے ہجوم کم ہو گیا ہے۔

جیوری کا انتخاب مکمل

یہ چونکا دینے والی پیش رفت مقدمے کے لیے جیوری کا انتخاب مکمل ہونے کے فوراً بعد سامنے آئی جس سے استغاثہ اور دفاعی وکلاء کے لیے پیر کے روز ابتدائی بیانات دینے کا راستہ صاف ہو گیا۔ یہ مقدمہ ایک پورن سٹار کو ادا کی جانے والی رشوت کی رقم کی بنا پر قائم کیا گیا تھا۔ عدالت بعد از دوپہر برخاست ہو گئی۔

چھے متبادل منصفین کے ساتھ 12 ججز اس نوعیت کے اولین مقدمے کی سماعت میں شواہد پر غور کریں گے تاکہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ایک سابق امریکی صدر قانون شکنی کا مجرم ہے یا نہیں۔ ٹرمپ کے دفاعی وکیل سوسن نیکلس کے مطابق استغاثہ کم از کم 20 گواہوں کو بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ اپنی طرف سے گواہی دے سکتے ہیں جو ایک پرخطر اقدام ہو گا کیونکہ اس سے ان کو جرح کا سامنا درپیش ہو گا۔

جیوری سات مردوں اور پانچ خواتین پر مشتمل ہے جو زیادہ تر اعلیٰ درجے کے پیشوں میں ملازم ہیں: دو کارپوریٹ وکیل، ایک سافٹ ویئر انجینئر، ایک اسپیچ تھراپسٹ اور ایک انگریزی استاد۔ یہ زیادہ تر نیو یارک کے مقامی رہائشی نہیں ہیں اور ان کا تعلق امریکہ کی مختلف ریاستوں، آئرلینڈ اور لبنان جیسے ممالک سے ہے۔ متبادل منصفین جو خود بھی کیس سنیں گے، ریزرو میں رکھے جاتے ہیں تاکہ اگر ججز میں سے کسی کو بیماری یا کسی اور وجہ سے چھوڑنا پڑے تو اس کی جگہ لے سکیں۔

ٹرمپ پر الزام ہے کہ ان کے اس وقت کے وکیل مائیکل کوہن نے 2016 کے انتخابات سے قبل پورن سٹار سٹارمی ڈینیئلز کو 130,000 ڈالر کی ادائیگی کی۔ یہ رقم ایک جنسی تصادم کے بارے میں زبان بندی کے لیے بطورِ رشوت دی گئی تھی جس کے بارے میں پورن سٹار کہتی ہیں کہ یہ واقعہ ایک عشرہ قبل پیش آیا تھا۔

ٹرمپ مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی ایلون بریگ کے پیش کردہ 34 جعلی کاروباری ریکارڈز میں قصوروار نہیں پائے گئے اور انہوں نے ڈینیئلز کے ساتھ اس طرح کے کسی بھی تصادم کی تردید کی ہے جن کا اصل نام اسٹیفنی کلفورڈ ہے۔

ٹرمپ تین دیگر مجرمانہ مقدمات میں بھی قصوروار نہیں پائے گئے لیکن 5 نومبر کے انتخابات سے قبل یہ واحد مقدمہ زیرِ سماعت ہے جب ریپبلکن سیاست دان دوبارہ ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کے مدِ مقابل ہوں گے۔

سزا ان کے عہدے سنبھالنے میں حائل نہیں ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں