یہ مشرق وسطیٰ میں انتقام کے چکر کو روکنے کا وقت ہے: گوتریس

اصفہان میں محدود حملے کے بعد تہران کی جانب سے اسرائیل کو جواب دینے کے ارادے کا اشارہ نہیں ملا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوتریس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انتقام کے خطرناک چکر کو روکنے کا وقت آگیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں خطرناک انتقامی کارروائیوں کو روکنے کا وقت آگیا ہے۔ گوتریس نے جمعرات کو بھی ایک ہمہ جہتی علاقائی تنازع کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

جمعہ کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے علاقے اصفہان پر محدود حملے نے حالات مزید کشیدہ کردئیے ہیں۔ تاہم تہران نے اس واقعے پر شک ظاہر کیا اور کہا ہے کہ اس کا جوابی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایران کے اس ردعمل کا مقصد علاقائی جنگ سے بچنا ہے۔ حملے کا محدود دائرہ کار اور اس کے بارے میں ایران کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوبیس گھنٹے کام کرنے والے سفارت کاروں کی کوشش کامیاب ہورہی ہے۔

ایرانی میڈیا اور حکام نے بہت کم دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائی دفاع نے اصفہان شہر پر تین ڈرون مار گرائے۔ انہوں نے اس واقعے کو اسرائیل نہیں بلکہ دراندازوں کی طرف سے کیا گیا حملہ قرار دیا۔ ایک ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اس واقعے کی وجہ سے اسرائیل کو جواب دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اسرائیل کی طرف سے مزید جوابی اقدامات کی منصوبہ بندی کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا۔ ایرانی سرزمین پر براہ راست حملوں کے علاوہ اسرائیل کے پاس حملے کے دیگر ذرائع بھی ہیں۔ اسرائیل کے پاس سائبر حملوں اور دیگر مقامات پر ایران نواز دھڑوں پر حملوں کے اختیارات بھی موجود ہیں۔ ایران کے اندر زیادہ تر سرکاری بیانات اور خبروں میں اسرائیل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے ان تجزیہ کاروں کی رائے نشر کی جنہوں نے حملے کے محدود پیمانے پر سوال اٹھایا۔

اسرائیلی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے بیانات کو براہ راست رپورٹ کرنے سے گریز کیا اور اس کے بجائے غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کا حوالہ دیا جس میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی گئی تھی کہ حملوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں