’حماس کی سیاسی قیادت اپنا ہیڈکوارٹر قطر سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے‘

حماس پر جنگ بندی مذاکرات میں لچک دکھانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا اور حماس اور ثالث ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو رہی ہے: امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا ہے کہ حماس تحریک کی سیاسی قیادت اپنا ہیڈکوارٹر قطر سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ دوحہ پر امریکی کانگریس کے ارکان کی طرف سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ اور جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے ایک عرب مذاکرات نے بتایا کہ حماس قطر سے باہر منتقل ہونا چاہتی ہے۔

اخبار نے عرب حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک نے حالیہ دنوں میں خطے کے کم از کم دو ممالک کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کی ہے کہ آیا وہ اپنے سیاسی رہ نماؤں کے اپنے دارالحکومتوں میں منتقل ہونے کے خیال کے لیے کھوسکتے ہیں یا نہیں۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بتایا کہ حماس کی قطر سے روانگی جنگ بندی تک پہنچنے اور غزہ میں زیر حراست درجنوں اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے ہونے والی حساس بات چیت کو ناکام بنا سکتی ہے۔ اس سے اسرائیل اور امریکہ کے لیےحماس کو پیغام پہنچانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

ایک باخبر عرب ثالث نے اخبار کو بتایا کہ "مذاکرات پہلے ہی روک دیے گئے ہیں جن کے جلد ہی کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور حماس اور مذاکرات کاروں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ رہا ہے"۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ مصر اور قطر کے ثالثوں نے حالیہ ہفتوں میں حماس کے نمائندوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تحریک کو مذاکرات میں اپنی شرائط کو کم کرنے کے لیے مجبور کریں۔ تحریک کے رہنماؤں کو بعض اوقات دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں کہ اگر وہ معاہدے پر راضی نہیں ہوتی ہے تو انہیں نکال دیا جائے گا۔

مذاکرات میں شامل ایک اور عرب ثالث نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ "جنگ بندی کے مذاکرات مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان بہت زیادہ ممکن ہو گیا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں