"نازی"، فوڈ مارکیٹ اور غزہ میں تیراکی پرنیتن یاہو اور جرمن وزیر کے درمیان جھگڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی نے کہا ہےکہ اس نے جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیرباک اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان تنازعہ کے بارے میں پریس کو "من گھڑت" رپورٹ جاری کرنے کے بارے میں بینجمن نیتن یاہو کے عملے سے شکایت کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے ساتھ ساتھ مؤقر جرمن اخبار ’بلڈ‘ نے اس ہفتے جرمن وزیر کے دورہ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو اور بیرباک کے درمیان زبانی تکرار کی خبر شائع کی تھی۔

اطالوی جزیرے کیپری پر جی 7 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر بیرباک نے کہا کہ "ہم خفیہ بات چیت شائع نہیں کرتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جرمن سفیر وزیر اعظم کے عملے سے رابطے میں تھے اور انہوں نے اس طرح کی مسخ شدہ رپورٹس کی اشاعت کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر کی وضاحت کی"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے اشاعت کے حوالے سے افسوس کا اظہار کیا جس کا ذریعہ واضح نہیں تھا"۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بیر باک کو غزہ کی پٹی میں خوراک کی وافر سپلائی والے بازاروں کی فوٹیج کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقے کے ساحلوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں جہاں فلسطینی تیراکی کر رہے تھے۔

بیرباک نے غزہ میں انسانی بحران پر نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تصاویر وہاں کی حقیقی صورت حال کی عکاسی نہیں کرتیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے اس رد عمل کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں یاھو نے کہا تھا ’اسرائیل "نازیوں کی طرح نہیں" جو من گھڑت کہانیاں بناتے تھے‘‘۔

اسرائیل میں جرمنی کے سفیر سٹیفن سیبرٹ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کہا کہ میڈیا رپورٹس میں "اہم نکات" "غلط اور گمراہ کن" ہیں لیکن انہوں نے ان کی وضاحت نہیں کی۔

غزہ پر جاری اسرائیلی حملے نے پٹی کا ایک بڑا حصہ ملبے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے ممکنہ قحط کی وارننگ دی ہے۔

غزہ میں انسانی صورتحال کے بارے میں بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کے باوجود، نیتن یاہو نے اس ہفتے قحط کے کسی بھی الزام کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کے معاملے کے حوالے سے "ضرورت سے زیادہ" کام کر رہا ہے۔

بیربک ہفتے کے آخر میں ایران کی طرف سے میزائلوں اور ڈرونز سے کیے گئے غیر معمولی حملے کے بعد اپنے ملک کی حمایت ظاہر کرنے کے لیے اسرائیل کا دورہ کر رہی تھیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے جرمنی نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں