اسرائیلی فوجی بٹالین ’نتزاح یہودا‘ پرممکنہ امریکی پابندی پر اسرائیلی لیڈرسیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ایک فوجی یونٹ کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزام میں بلیک لسٹ کرنے ممکنہ فیصلے کے بعد اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن چند ہی دنوں میں مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی "نتزاح یہودا" بٹالین کے خلاف پابندیوں کا اعلان کریں گے۔

اس حوالے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک ایسے وقت میں ایک اسرائیلی فوجی بٹالین پر پابندی لگا رہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حالت جنگ میں ہے۔

نتزاح بٹالین کیا ہے اور اس کا فوج میں کیا کردار ہے؟

"نتزاح یہودا" بٹالین ہمیشہ دائیں بازو کی انتہا پسند عناصر پرمشتمل ایک گروپ ہے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد سے متعلق بہت سے تنازعات کا مرکز رہی ہے۔ خاص طور پر 78 سالہ فلسطینی نژاد امریکی عمر الاسد کی موت جسے گرفتار کرکے تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا۔ اسے چیک پوائنٹ پر ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور سپاہیوں نے اسے ایک سخت سرد رات میں تشدد کے بعد زمین پر پھینک دیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

واقعے کی تحقیقات کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے اعلان کیا کہ "افواج کی اخلاقی ناکامی اور فیصلے میں غلطی ہوئی ہے، جس سے انسانی وقار کی قدر کو شدید نقصان پہنچا ہے"۔

اس واقعے کے بعد ‘نتزاح یہودا‘ بٹالین کے کمانڈر کی سرزنش کی گئی اور کمپنی کمانڈر اور پلاٹون کمانڈر کو فوری طور پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد فوجیوں کے خلاف فوج داری کیس کی تحقیقات بند کردی گئی تھیں۔

اسرائیل نے دسمبر2022ء میں اس یونٹ کو مغربی کنارے سے منتقل کیا حالانکہ اسرائیل نے اس بات کی تردید کی تھی اس نے فوجیوں کے رویے کی وجہ سے ایسا کیا۔ تب سے یہ بٹالین زیادہ تر ملک کے شمال میں خدمات انجام دے رہی ہے۔

’نتزاح یہودا‘ یونٹ کو اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ الٹرا آرتھوڈوکس اور دیگر اسرائیلی فوجی یہ محسوس کیے بغیر خدمت کرسکیں کہ وہ اپنے عقائد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

یہ بٹالین مغربی کنارے میں ایک یونٹ کے طور پر کام کرتا تھا، جس میں بنیادی طور پر حریدی مرد اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے انتہا پسند نوجوان شامل تھے۔انہیں اسرائیلی فوج کے دیگر جنگی یونٹوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اس یونٹ کے مرد سپاہی خواتین اہلکاروں سے دور رہتے ہیں۔ انہیں عبادت اور مذہبی مطالعہ کے لیے اضافی وقت دیا جاتا ہے۔

’یونٹ‘ کے ارکان نے تشدد کے بہت سے متنازعہ واقعات میں حصہ لیا ہے اور ماضی میں بھی اس یونٹ کو فلسطینی قیدیوں کو اذیت دینے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کے مجرم ٹھہرایا گیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "نتزاح یہودا" مغربی کنارے میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی یونٹ ہے، جو دائیں بازو کے انتہا پسند آباد کاروں کے لیے ایک منزل بن گیا ہے جنہیں اسرائیلی فوج میں کسی دوسرے جنگی یونٹ میں قبول نہیں کیا گیاجاتا وہ اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔

اسرائیلی لیڈر برہم

ذرائع کی جانب سے امریکہ کی جانب سے اس بٹالین پرممکنہ پابندیاں عائد کرنے پر غوراسرائیلی قیادت پریشان دکھائی دیتی ہے۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ نئے فیصلے بٹالین اور اس کے ارکان کو کسی بھی قسم کے امریکی ہتھیار یا فوجی تربیت حاصل کرنے سے محروم کردیں گے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی محکمہ خارجہ نے 2022ء کے آخر میں اس بٹالین کی تحقیقات شروع کیں جب اس کے فوجی فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات میں ملوث پائے گئے اور اسی وجہ سے اس نے اس یونٹ کے خلاف اپنا فیصلہ کیا۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس پر کسی کا دھیان نہیں جائے گا، کیونکہ اسرائیلی رہ نماؤں نے اس کی مذمت کی اور امریکی منصوبے نے اسرائیلی حکام بشمول وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے سخت رد عمل کو جنم دیا ہے۔

نیتن یاہو نے اس پر لکھا ’ یہ مضحکہ خیزی اور اخلاقی گراوٹ کی بلند ترین سطح ہے"۔انہوں نے ممکنہ امریکی فیصلے کا جواب دینے کا اعلان کیا۔

سابق وزیر دفاع بینی گینٹز نے تنقید میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ انفنٹری یونٹ "اسرائیلی فوج کا اٹوٹ حصہ" ہے اور یہ فوجی اور بین الاقوامی قانون کی پابند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے پاس "مضبوط اور آزاد" عدالتیں ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق مبینہ خلاف ورزیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

گینٹز نے کہا کہ "ہم اپنے امریکی دوستوں کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن یونٹ پر پابندیاں عائد کرنا ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے اور جنگ کے وقت ہمارے مشترکہ دشمنوں کو غلط پیغام بھیجتا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ فیصلہ نافذ نہیں ہو سکےگا‘‘۔

اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے بھی اسرائیلی فوجیوں پر پابندیاں عائد کرنے کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیا۔

بین گویر نے نئی رپورٹس کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وزیر دفاع یوآو گیلنٹ امریکی حکم نامے کے آگے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور نتزاح یہودا کے ارکان کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ "اگر وزارت دفاع میں کوئی ایسا نہیں ہے جو بٹالین کی ضرورت کے مطابق مدد کرے تو میں درخواست کروں گا کہ انہیں اسرائیلی پولیس اور وزارت قومی سلامتی میں شامل کیا جائے۔ میں ان کو بارڈر گارڈ میں ضم کرنے کے لیے تیار ہوں گا‘‘۔

وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے کہا کہ جب اسرائیل اپنے "وجود" کی جنگ لڑ رہا ہے تو پابندیاں لگانا "مکمل پاگل پن" ہے۔

اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "یہ ایک منصوبہ بند اقدام کا حصہ ہے جس کا مقصد اسرائیلی ریاست کو فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی ہونے اور اسرائیل کی سلامتی کو ترک کرنے پر مجبور کرنا ہے"۔

اسرائیل میں حیرانی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ایک بڑے فوجی امدادی پیکج کی منظوری کے بعد رہنماؤں کی جانب سے امریکا سے اظہار تشکر کیا گیا۔

نامعلوم امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے’ایکسیس‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندیاں امریکی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر انتہا پسند یہودی پیادہ یونٹ کو منتقلی کو روکیں گی اور اپنے فوجیوں کو امریکی افواج کے ساتھ تربیت یا کسی بھی امریکی فنڈ سے چلنے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بھی روکیں گی۔

سینیٹر پیٹرک لیہی کا قانون

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سینیٹر پیٹرک لیہی نے 1990ء کی دہائی کے اواخر میں جو قوانین وضع کیے تھے ان میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد یا سکیورٹی فورس یونٹس کو فوجی مدد کی فراہمی روکنا شامل ہے۔

ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دیگر فوجی اور پولیس یونٹوں پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا جن کی انتظامیہ تحقیقات کر رہی ہے، کیونکہ اس نے ان کے رویے میں تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ نتزاح یہودا کو سزا دینے کا فیصلہ 7 اکتوبر سے پہلے کی گئی تحقیق پر مبنی تھا جس میں مغربی کنارے میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

بلنکن نے خود گذشتہ جمعہ کو تصدیق کی کہ امریکہ نے نوٹ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے "لیہی" قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کے لیے انفرادی آباد کاروں کے خلاف پابندیوں کے تین ادوار میں پابندیاں عاید کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں