اسرائیل نے ایران پر حملہ میں ریڈار پر نہ آنیوالے "ریمباج" میزائل استعمال کیا

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر نے اسرائیل سے منسوب حملے کو بچوں کے کھیل سے تشبیہ دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے 19 اپریل کو ایرانی علاقے اصفہان پر حملے میں ریمباج میزائل کا استعمال کیا ہے۔ یہ میزائل اسرائیل کا تیار کردہ ہے اور اس کی رفتار آواز سے زیادہ ہے۔ اس میزائل کو ایرانی ریڈار پر نہیں آیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس میزائل کا فضائی دفاعی نظام سے پتہ لگانا مشکل ہے۔ اپنا راستہ درست کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے یہ کامیابی سے اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔ 450 کلومیٹرکی رینج والے اس میزائل میں 150 کلو گرام وزنی وار ہیڈ تھا۔ نیویارک ٹائمز اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل نے جس ہتھیار سے ایرانی نطنز نیوکلیئر سائٹ کے فضائی دفاع کو نشانہ بنایا اس میں ایسی ٹیکنالوجی موجود تھی جو اسے ایرانی ریڈار سے بچنے کے قابل بناتی تھی۔ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ اسرائیل ایرانی دفاعی نظام کو مفلوج کرسکتا ہے۔

دو ایرانی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی ہتھیار نے صوبہ اصفہان میں ایک فوجی اڈے پر S-300 اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا کہ اصفہان میں ایس 300سسٹم کو نقصان پہنچا ہے۔

دونوں ایرانی عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فوج جمعہ کو اپنی فضائی حدود میں ڈرون، میزائل اور ہوائی جہازوں کی مداخلت کا پتہ نہیں لگا سکی۔ ایرانی خبر ایجنسی ’’ ارنا‘‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ کوئی میزائل حملہ نہیں ہوا اور یہ کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام بھی فعال نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں