اسرائیل کے لیے 13 ارب ڈالر کی امریکی امداد منظور، حماس کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے امریکی ایوان نمائندگان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ جس میں امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے باوجود اربوں ڈالر امداد کی منظوری دی ہے۔ اس امریکی امداد سے اسرائیلی فضائیہ کے دفاعی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے 'انتہا پسند صیہونیوں کی حمایت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی حمایت کے ذریعے فلسطینیوں پر ہونے والی وحشیانہ جارحیت کو لائسنس دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے امریکی امداد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غزہ پر جاری اسرائیلی جنگ میں امریکہ شریک ہے۔'

خیال رہے امریکی ایوان نمائندگان نے ہفتہ کے روز اسرائیل کو 13 ارب ڈالر امداد کی مد میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کو امریکی مدد فراہم کی جا سکے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے 'ایوان نمائندگان کا منظور شدہ حالیہ بل قابل تعریف ہے۔ یہ بل اسرائیل کے لیے امریکہ کی مضبوط حمایت کا اظہار ہے۔ نیز یہ مغربی تہذیب کا دفاع کرتا ہے۔'

ہفتہ کے روز منظور ہونے والے اسرائیلی امدادی بل میں کہا گیا ہے 'غزہ سمیت پوری دنیا میں جہاں کہیں انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے وہاں امداد پہنچانے کے لیے 9 ارب ڈالر سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔'

حماس رہنما اسماعیل ھنیہ کی بہن پر اسرائیلی سٹیٹ اٹارنی نے اتوار کے روز فرد جرم عائد کی ہے۔ اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں دہشت گرد گروپ کی حمایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں