کابل میں بم دھماکہ ، ایک شخص ہلاک، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہفتہ کی شام کابل میں دستی بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔ افغان پولیس نے کہا کہ داعش نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دیسی ساختہ بم کا دھماکہ کوٹ سانگی محلے میں کیا گیا جو تاریخی مظلوم شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے ایک انکلیو کے قریب ہے جسے ماضی میں عسکریت پسند گروپ نے نشانہ بنایا ہے۔

کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے ہفتے کو تادیر ایک بیان میں کہا، "دستی بم ایک منی بس میں نصب کیا گیا تھا۔" نیز انہوں نے کہا، "گاڑی کا ڈرائیور جان سے گیا اور تین دیگر شہری زخمی ہوئے۔"

بیان میں مزید کہا گیا، سکیورٹی اہلکار واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

داعش نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ افراد کو لے جانے والی ایک منی بس کو طالبان کی ایک چوکی سے گذرتے ہوئے اڑا دیا گیا۔

داعش کے بیان میں کہا گیا، یہ حملہ "اس کی تباہی اور تقریباً دس افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا باعث بنا"۔

جب سے طالبان نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کی شورش ختم کرنے کے بعد اگست 2021 میں اقتدار میں واپس آئے ہیں، افغانستان میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔

البتہ داعش سمیت متعدد مسلح گروہوں کا خطرہ باقی ہے۔

گذشتہ ماہ متعدد افراد مارے گئے تھے جب داعش کے ایک خودکش بمبار نے ایک بینک کو اس وقت نشانہ بنایا جبکہ لوگ اپنی تنخواہیں لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ حکام نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین بتائی ہے تاہم ہسپتال ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ 20 افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں