اٹھو اور ایران کا مقابلہ کرو:اسرائیلی صدر کا یورپ کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کے بعد عالمی سطح پردونوں ممالک سے جنگ سے گریز کرنے اور خطے کو کشیدگی کی دل دل میں دھکیلنے سے بچانے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا گیا تھا تاہم دونوں ممالک کے درمیان پروپیگنڈے کی جنگ عروج پر ہے۔

یورپ اور امریکہ کی مداخلتوں پر تنقید!

اسرائیلی صدراسحاق ہرزوگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یورپی رہ نما مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ایران کی طرف سے لاحق خطرے کو ’’سمجھ نہیں‘‘ رہے ہیں۔

انہوں نے جرمن "ایکسل اسپرنگر" نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ ایرانی حکومت روس کو یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں استعمال کرنے کے لیے ہزاروں ڈرون فراہم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی تہران اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران ایک بدمعاش ریاست بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یورپ کو فوری طور پر بیدار ہونا چاہیےاور انہیں ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بیدارہونا چاہیے۔

"برائی کی جڑ"

اسرائیل کو غزہ پر اپنے حملے کے پیمانے پر اپنے اتحادیوں کی تنقید کا سامنا ہے جس نے رفح پر ایک اور حملے کی تیاریوں کے دوران پٹی کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے۔اس تنقید کو نظرانداز کرتے ہوئے ہرزوگ نے زور دے کر کہا کہ تہران "اصل دشمن" ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اگر آپ بیدار نہیں ہوئے اور زیادہ سے زیادہ مضبوط نہیں بنیں گے اور نیٹو میں اتحاد کے ساتھ اس برئی کی جڑ[ایرن] کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یورپ مستقبل میں اس کی قیمت چکا سکتا ہے۔"

انہوں نے امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہ نما چک شومر کے اسرائیل سے نئے انتخابات کرانے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا۔ ہرزوگ نے کہا کہ "میں تجویز کرتا ہوں کہ امریکی سیاسی رہ نما اسرائیلی سیاست میں مداخلت نہ کریں بلکہ یہ معاملہ اسرائیلی عوام اور سیاسی ادارے پر چھوڑ دیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں"۔

انہوں نے زور دیا کہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن کو "اسرائیل کا عظیم دوست" سمجھتے ہیں۔حالانکہ ان کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مطالبے، رفح پر منصوبہ بند حملے کی مخالفت سینیٹر چک شومر کے اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان دھائیوں پر محیط سرد جنگ گذشتہ ماہ اس وقت اعلانیہ محاذ آرائی میں بدل گئی تھی جب اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کردیا تھا۔

دوسری طرف ایران نے گذشتہ 13 اپریل کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر 300 سے زیادہ میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ اس کے بعد جمعہ کی صبح اسرائیل نے ایران کے اندر فوجی تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں