بائیڈن کی کولمبیا یونیورسٹی کے مظاہروں پرکشیدگی کے درمیان کیمپس کی یہود دشمنی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کو کالج کیمپس میں کسی بھی یہود دشمنی کے واقعے کی مذمت کی جبکہ کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حامی مظاہرین نے سکول کے اہم امریکی اتحادی اسرائیل کے ساتھ مالی روابط منقطع کرنے کا مطالبہ پانچویں دن بھی جاری رکھا۔

طلباء جنہوں نے یونیورسٹی کے میدانوں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، نیویارک کے معروف سکول سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ اور غزہ میں آنے والے انسانی بحران کی روشنی میں ملک سے منسلک تمام سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرے۔ مذکورہ نیویارک سکول کا تل ابیب یونیورسٹی کے ساتھ طلباء کے تبادلے کا پروگرام ہے۔

بائیڈن نے پیر کی رات سے شروع ہونے والی یہودیوں کی عیدِ فصح کی تعطیل سے قبل ایک بیان میں کہا، "حالیہ دنوں میں بھی ہم نے یہودیوں کے خلاف ہراسانی اور تشدد کے مطالبات دیکھے ہیں۔ یہ صریح یہود دشمنی قابلِ مذمت اور خطرناک ہے۔ اور اس کی کالج کیمپس یا ہمارے ملک میں کہیں بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔"

سات اکتوبر کو حماس کے حملے اور غزہ پر اسرائیل کی جوابی بمباری کے بعد سے ریاست ہائے متحدہ میں یونیورسٹیاں شدید ثقافتی بحث کا مرکز بن گئی ہیں کیونکہ کئی طلباء پر فلسطینی حمایت کی بنا پر یہود دشمنی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

سی این این نے اطلاع دی کہ کولمبیا میں آرتھوڈوکس یہودی طلباء تنظیم سے وابستہ ایک ربی نے "سختی سے" یہودی طلباء کو اتوار کو گھر جانے کا مشورہ دیا۔

سی این این کے مطابق ربی ایلی بوچلر نے تقریباً 300 طلباء کے نام ایک پیغام میں لکھا، حالیہ واقعات نے "یہ واضح کر دیا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی کا عوامی تحفظ اور این وائے پی ڈی [نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ] یہودی طلباء کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔"

البتہ کولمبیا کی ایک اور یہودی تنظیم ہلیل نے ایکس پر کہا، یہودی طلباء کو کیمپس نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن یہ کہ یونیورسٹی کو "ہمارے طلباء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔"

طلباء کے اخبار کولمبیا سپیکٹیٹر نے کہا، طلباء کے انٹرویوز اور ویڈیوز کے مطابق "تقریباً 10 اسرائیل نواز مظاہرین کے ایک گروپ کو ہفتے کی رات سنیڈیال [کیمپس کے ایک تاریخی مقام] پر یہود دشمنی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔"

کولمبیا سپیکٹیٹر نے اطلاع دی، اتوار کو مظاہرے کے دوران "موسیقی بجتی رہی جبکہ طلباء کچھ نیلے رنگ کے تاروں پر دراز تھے، دوسرے لیپ ٹاپ کے ساتھ کیمپنگ کی کرسیوں پر بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔"

جمعے کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ فلسطین کے حامی مسلم اور یہودی طلباء مظاہرین تمام ہی نام نہاد "غزہ یکجہتی کیمپ" میں نماز اور دعا کر رہے تھے۔

طلباء گرفتار

کشیدگی خاص طور پر جمعرات کو زیادہ تھی جب 108 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ اس وقت ہوا جب یونیورسٹی کی صدر نعمت شفیق نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس سے مداخلت کی درخواست کی۔ انہوں نے گرفتار شدہ طلباء کے بارے میں کہا کہ انہوں نے کیمپس کے حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

نیو یارک پولیس کی پٹرولنگ سروسز کے سربراہ جان چیل نے نامہ نگاروں کو بتایا، "گرفتار شدہ طلباء پرامن تھے، انہوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور وہ جو کہنا چاہتے تھے، پرامن طریقے سے کہہ رہے تھے" اور یہ کہ "کوئی واقعہ نہیں ہوا" لیکن یہ کہ ایک الگ گروپ نے جمع ہو کر افسران کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔"

زیرِ حراست طلباء میں ڈیموکریٹک نمائندہ الہان عمر کی بیٹی بھی شامل تھیں۔

نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز نے اتوار کے روز کہا کہ کولمبیا میں یہود دشمنی کی اطلاعات پر انہیں "خوف اور کراہت" کا احساس ہوا اور پولیس "کسی بھی ایسے شخص کو گرفتار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرے گی جو قانون شکنی کا ارتکاب کرے۔"

البتہ انہوں نے کہا، "کولمبیا یونیورسٹی نجی زمین پر بنا ہوا ایک نجی ادارہ ہے جس کا مطلب ہے کہ این وائے پی ڈی کی کیمپس میں موجودگی نہیں ہو سکتی جب تک یونیورسٹی کے سینئر حکام خصوصی طور پر درخواست نہ کریں۔"

کشیدہ مناظر اسی ہفتے سامنے آئے جب یونیورسٹی کی صدر شفیق کانگریس میں نمودار ہوئیں جہاں انہوں نے کہا، "ہمارے کیمپس میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔"

کانگریس کے ریپبلکنز نے کالج کی یہود دشمنی پر تشویش کا معاملہ اٹھایا ہے جب ہارورڈ کی صدر کلاڈائن گے نے فوراً استعفیٰ دے دیا کیونکہ انہیں بھی گواہی کے لیے بلایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں