برطانیہ کے وزیرِاعظم کا اردن کے شاہ عبداللہ سے غزہ کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال

برطانیہ کا حتمی مقصد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے قابلِ عمل دو ریاستی حل کا حصول ہے: سونک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیرِ اعظم رشی سونک نے غزہ کی پٹی میں ہونے والی پیش رفت پر بات کرنے کے لیے اتوار کے روز اردن کے شاہ عبداللہ کو فون کیا۔

10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق کال کے دوران سونک نے اردن اور خطے کی سلامتی کے لیے برطانیہ کی حمایت کی تجدید کی اور کہا کہ کشیدگی میں اہم اضافہ "کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، برطانیہ کی توجہ غزہ تنازع کا حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔

سونک نے کہا، برطانیہ فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بڑی مقدار میں غزہ میں امداد پہنچائی جا سکے اور حماس کے زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کو بحفاظت ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملا دیا جائے جس سے "طویل مدتی پائیدار جنگ بندی" کی راہ ہموار ہو۔

ڈاوننگ سٹریٹ نے کہا، "دونوں رہنماؤں نے "غزہ کے لیے امداد کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا جس میں برطانیہ کی جانب سے اردن کی قیادت میں فضائی راستے سے امداد کی فراہمی میں حصہ لینے اور غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر زمینی راہداری کے ساتھ ساتھ قبرص کے راستے سمندری امدادی راہداری شامل ہیں۔"

سونک نے شاہ عبداللہ کو بتایا کہ برطانیہ کا حتمی مقصد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے قابل عمل دو ریاستی حل حاصل کرنا ہے۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے "فلسطینی علاقوں میں استحکام اور خوشحالی کی فراہمی کے لیے ایک اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کی اہمیت پر اتفاق کیا۔"

اردن کی سرکاری پیٹرا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ شاہ عبداللہ نے علاقائی کشیدگی کے خطرے سے خبردار کیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپنے مطالبے کی تجدید کی کہ وہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششیں تیز کرے تاکہ محصور فلسطینی علاقے میں بگڑتی ہوئی انسانی تباہی کو کم کیا جا سکے۔ اور انہوں نے رفح پر اسرائیلی حملے کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔

شاہ عبداللہ نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (اونروا) کی حمایت جاری رکھنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا تاکہ اسے اقوامِ متحدہ کی طرف سے ملنے والے اختیارات کے مطابق انسانی ہمدردی کی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں