جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام پر اتفاق رائے ممکن ہے: ہنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے انتظام پر فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاق رائے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے انتظامی امور کے حوالے سےبات کرنا "خالص طور پر فلسطینی مسائل" ہیں۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہنیہ نے مزید کہا کہ "ہم دیکھتے ہیں کہ غزہ فلسطینیوں کے وطن کا حصہ ہے اور غزہ اور مغربی کنارے کے لیے ایک قومی متفقہ حکومت کی تشکیل یقینی طور پر جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ اور اس کی انتظامیہ کی نگرانی کرے گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم غزہ کی پٹی کے انتظام پر متفق ہو سکتے ہیں اور یہ خالصتاً فلسطینی مسائل ہیں۔ ہمیں اسرائیلی قابض یا کسی اور کو فلسطینی حالات کے انتظام میں مداخلت کی اجازت دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ غزہ میں یا مغربی کنارے میں یا دونوں میں فلسطینیوں کے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کا کوئی حق نہیں‘‘۔

آپشنز اور متبادل راستے

انہوں نے نشاندہی کی کہ "یہاں آپشنز اور متبادل راستے ہیں جو تجویز کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عرب فورس کی موجودگی۔ ہم نے بہت واضح طور پر کہا کہ ہم کسی بھی عرب یا اسلامی قوت کا خیرمقدم کرتے ہیں اگر اس کا مشن ہماری مدد کرنا ہے۔ فلسطینی عوام اور انہیں اسرائیلی قابض سے آزادی دلانے میں مدد کریں، لیکن اگر کوئی عرب یا اسلامی طاقت آجائے، یا بین الاقوامی فوج اسرائیلی وجود کو تحفظ فراہم کرنے کے لیےآئے تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے‘‘۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسے متبادل آپشنز ہیں جو تجویز کیے گئے تھے لیکن بہت سی تجاویز ناقابل عمل ہوسکتی ہیں‘‘۔

فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ "ہم نے فلسطین کو دو سطحوں پر منظم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک کے اندر قیادت کی سطح تاکہ تنظیم میں حماس اورر اسلامی جہاد سمیت تمام دھڑوں کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری سطح "مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے لیے ایک متفقہ حکومت کی تشکیل ہے۔ اس متفقہ حکومت کے ذمہ تعمیر نو کی نگرانی، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اداروں کو متحد کرنا اور عام انتخابات، صدارتی، پارلیمانی اور فلسطینی قومی کونسل کے الیکشن کی تیاری کرنا ہے‘‘۔

رفح کا منظر
رفح کا منظر

سیاسی دباؤ

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی اخبار "ہارٹز" نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ جنگی کونسل کے رکن بینی گینٹز نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو فون کرکے امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ غزہ میں "ما بعد جنگ " کے مسئلے پر بات چیت شروع کرنے کے لیے کہا تھا۔

اسرائیلی وزیر نے قیدیوں کی رہائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے حماس پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں