مراکشی انفلوئنسرکے ساتھ اس کے لباس کی وجہ سے فرانس میں ناروا سلوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مراکشی مسلمان خاتون کے ساتھ ایسے نفرت آمیز رویے کا مظاہرہ کیا گیا جس پر عوامی حلقوں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کے مطابق مراکش کی 22 سالہ انفلوئنسر فاطمہ سعیدی جو اسپانیہ میں مقیم ہے نے انگریزی میں پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ "اسے پیرس کے پہلے دورے پر نفرت انگیز جرم کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک بوڑھے سفید فام نے اس کے حجاب پر تھوک دیا‘‘۔

لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ

اس نے وضاحت کی کہ جب وہ گذشتہ بدھ کو اپنی دوست کے ساتھ ایفل ٹاور کے قریب چہل قدمی کر رہی تھی تو ایک شخص جو جاگنگ کر رہا تھا اس کے قریب آیا اور اس پر حملہ کیا۔

اس نے کہا کہ اس آدمی نے "غلط لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ"۔ کی۔ اس نے اس واقعے کو اپنے فون پر ریکارڈ کرلیا۔ وہ دوبارہ اس پر تھوک رہا تھا اور کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔

اس نے عہد کیا کہ وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گی اورحملہ آور کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کرے گی۔

جب سے اسے جمعرات کو TikTok پر پوسٹ کیا گیا تھا اس ویڈیو کو تقریباً 5 ملین ویوز مل چکے ہیں۔

دریں اثنا پیرس کے ڈپٹی میئر عمانویل گریگوئیر نے اس واقعے کی فوری مذمت کرتے ہوئے اسے "خواتین اور اسلامی مذہب پر حملہ" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ رواداری اور اعتدال پسندانہ جذبے سے متصادم ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں