مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی: کولمبیا یونیورسٹی نے کلاسز منسوخ کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کی معروف درسگاہ کولمبیا یونیورسٹی نے طلباء و طالبات کا کلاسز میں حاضر ہو کر پڑھنے کی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔ جبکہ پیر کے روز پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے کہ وہ کالج کیمپس میں ہوتے ہوئے ملک بھر میں ایک ایسی صورتحال بنا رہے تھے جو مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے لیے اچھی نہیں ہو سکتی تھی۔

'آئیوی لیگ' کے دو سکولوں میں مظاہرین کی گرفتاری پیر کے روز کی گئی ہے۔ مظاہرین کی گرفتاری یہودیوں کی 'پاس اوور' چھٹی شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے کی گئی ہے۔

نیو ہیون پولیس کے ترجمان کرسچن برک ہارٹ نے بتایا ہے کہ تقریباً 45 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ ان پر بدانتظامی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کولمبیا سے ایک سو مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق انہوں نے کیمپس میں احتجاج کے نام پر ڈیرے ڈال رکھے تھے۔

کولمبیا کی صدر منوشے شفیک نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کرتے ہوئے کہا 'کیمپس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے میں بہت غم زدہ ہوں. غم و غصے کو کم کرنے اور اگلی حکمت عملی کے لیے یونیورسٹی میں پیر سے کلاسز کا آغاز ہوگا۔ خیال رہے صدر کی گفتگو میں اس بات کا تذکرہ نہیں تھا کہ گیا کہ یہ پیر کب آئے گا۔

صدر شفیک نے کہا 'مشرق وسطیٰ میں خوفناک قسم کا تنازعہ چل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس سے پہلے بھی غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے امریکی تعلیمی اداروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی اور برنارڈ کالج کے طلباء نے بتایا کہ فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے پر انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں