ایران کے عدم استحکام لانے والے اقدامات کا مقابلہ عزم سے کریں گے: میکرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ فون کال کے دوران تصدیق کی کہ وہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانا چاہتے ہیں اور ایران کے غیر مستحکم کرنے والی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

ایلزے پیلس کے ایک بیان کے مطابق میکرون نے کہا کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب اسرائیل پر ایران کی طرف سے شروع کئے گئے غیر معمولی اور ناقابل قبول حملے سے ایک بڑی فوجی کشیدگی کا خطرہ بن گیا ہے۔ فرانس اس بگاڑ سے بچنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے اور تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔،

میکرون نے نیتن یاہو سے گفتگو میں مزید کہا کہ فرانس کی جانب سے عالمی شراکت داروں کے ساتھ ملکر اسرائیل اور لبنان کے درمیان بلیو لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کا کام 15 اپریل کو ملتوی ہوگیا تھا اسے دوبارہ شروع کریں گے۔

غزہ میں جنگ بندی

فرانسیسی ایوان صدر نے مزید کہا کہ غزہ میں شہریوں کی حالت ایک طویل عرصے سے ناقابل قبول حد خراب ہونے کے تناظر میں میکرون نے فوری اور پائیدار جنگ بندی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے رفح پر اسرائیل کے حملے کی سخت مخالفت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کی طرف جانے والی تمام گزرگاہوں کے ذریعے بڑی مقدار میں انسانی امداد کے داخلے کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔

مغربی کنارے میں تشدد

میکرون نے حال ہی میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کی طرف سے شروع کیے گئے تشدد اور حملوں کی شدت کی شدید مذمت کی اور اسرائیلی حکام سے ان اقدامات کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہودی آباد کاری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستی حل پر مبنی امن کے قیام کی راہ کی رکاوٹ ہے لہذا اسے روک دینا چاہیے۔ خیال رہے میکرون نے بدھ 17 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ دمشق میں اپنے قونصل خانے پر حملے کے جواب میں ایران کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد اس پر پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھانا یورپی یونین کا فرض ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں