یقین نہیں کہ حماس کو قطر چھوڑنا پڑے گا: صدر ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے فلسطینی مزاحمت گروپ حماس کی دوحا کے بجائے کسی دوسرے ملک منتقل ہونے کی خبروں کے بارے میں سوال پر کہا ہے کہ ان کے سامنے ایسی کوئی اطلاع یا علامت نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ حماس قیادت کی دوحا چھوڑ کر جانے کی خواہش کی تصدیق کر سکیں ۔

صدر ایردوآن ایک طویل عرصے بعد کیے گئے عراق کے دورے سے واپسی پر پرواز میں موجود صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

میڈیا ٹیم نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا حماس کی قیادت قطری دارالحکومت دوحا کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کی خواہش رکھتی ہے جس پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس حماس قیادت کی اس طرح کی کسی خواہش کے حوالے سے کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ترکیہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے موقف کا حامی ہے اور ترکیہ حماس کے کئی سینیر ارکان کی میزبانی بھی کر چکا ہے ۔ ترکیہ غزہ پر اسرائیلی جنگی مہم کا سخت ناقد ہے اور یہ موقف پیش کرتا رہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قوانین کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

صدر طیب ایردوآن نے پچھلے ہفتے ہی حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ استنبول میں ملاقات کی ہے اور غزہ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ صدر طیب کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک فلائٹ انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ ان کے نزدیک ' اہم بات یہ نہیں ہے کہ حماس کی قیادت کہاں رہتی ہے اور کہاں نہیں بلکہ اہم بات غزہ کی صورتحال ہے جہاں اسرائیل فلسطینیوں کو مسلسل بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے۔'

اس انٹرویو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ' قطر حماس کے ساتھ بہت مخلصانہ تعلق رکھتا ہے ۔ حماس قائدین کو قطر نے ہمیشہ ایک خاندان کے افراد کی طرح دیکھا ہے اور میں یہ بالکل نہیں سمجھتا کہ آنے والے دنوں میں قطر کا حماس کے لیے یہ انداز تبدیل ہو جائے گا ۔'

ترکیہ کے صدر نے مزید کہا ' غزہ پر اسرائیلی قبضہ مزید فلسطینی علاقوں پر حملوں اور قبضہ کا دروازہ کھول دے گا ۔اسرائیل فلسطینیوں کا غزہ میں بدترین قتل عام کر رہا ہے جس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی درحقیقت اسرائیل غزہ سے باہر بھی جارحیت کے خواب دیکھ رہا ہے ۔'

خیال رہے غزہ میں پچھلے تقریباً 7 ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران 34000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے حماس کا مکمل صفایا کرنے تک جنگ جاری رکھے گا۔ تاہم اس کا غزہ پر حکومت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں