’’رقم واپس کردی‘‘ مسجد کے نام پر فنڈ بٹورنے کے الزامات کے بعد کوریائی یوٹیوبر کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ کرکے رقم بٹورنے کے الزامات کے بعد جنوری کوریا کے مشہور یوٹیوبر داؤد کیم نے رقم واپس کرنے کا دعویٰ کردیا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے ذریعے چندہ اکھٹا کیا۔ تیس سالہ داؤد کیم نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ اس نے مسجد کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی تمام رقم واپس کردی۔

ڈایگو مسجد کے متعلق حاصل کی گئی تمام رقم میں نے واپس کر دی۔ تاہم داؤد کیم نے واضح نہیں کیا کہ اس نے رقم کس کو واپس کی ہے اور کونسی رقم واپس کی ہے۔ داؤ کیم نے یہ بھی کہا کہ میں نے کبھی کسی کو ہراساں نہیں کیا، میں نے کبھی کسی کو نہیں مارا، میں نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو مجھے قانونی طور پر سزا ملنی چاہیے۔

داؤد کیم نے بتایا کہ حکام نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا ۔ یہ تمام کیسز اس وقت سامنے آئے جب میں نے کوریا میں مسجد بنانے کا فیصلہ کیا، اس لیے ان لوگوں کے جھوٹ سے بیوقوف نہ بنیں جو کوریا میں اسلام کے پھیلنے سے ڈرتے ہیں۔ داؤد کیم نے مزید کہا اللہ سب جانتا ہے، میرا نیت اللہ کے لیے ہے۔ میں کوریا میں مسجد بنانا کبھی ترک نہیں کروں گا۔

داؤد کیم نے پانچ ماہ قبل اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی کہ اگر آپ کوریا میں اسلام کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم چندہ دیں۔ اس نے اپنے غیر ملکی فالوورز سے عطیات جمع کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس نے پے پال کے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر رقم بھیجنے کا کہا تھا۔ ایک سال قبل یوٹیوبر داؤد کیم نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے پاس جنوبی کوریا میں مساجد کی تعمیر کے دو منصوبے ہیں۔ پہلا ڈیگو میں اور دوسرا دارالحکومت سیول میں۔

جنوبی کوریا میں اسلام

جنوبی کوریا میں تقریباً 2 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جن میں سے 40 ہزار کورین نژاد اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار غیر ملکی ہیں۔ کورین اسلامک یونین کے مطابق ملک میں تقریباً 200 مساجد اور نماز ہالز موجود ہیں۔ یوٹیوبر کا یہ سکینڈل کوریائی مسلمانوں کے لیے بنائے گئے منصوبوں کے لیے ایک دھچکے کے طور پر سامنے آیا ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں