’مصری استاد جس نے اپنے گھر کے دروازے یمنی شاگردوں کے لیے کھول دیے‘

محمد محمدی شحاتہ کی 35 سال کے بعد اپنے یمنی شاگردوں سے محبت بھری ملاقات۔ شحاتہ نے یمن سے آنے والے طلباء کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کرکے استاد اور شاگرد کے درمیان روحانی تعلق کو عمدہ انداز میں زندہ کیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک مصری استاد کی طرف سے اپنے یمنی طلباء کے لیے پیش کی گئی نایاب وفاداری کی مثال نے استاد اور شاگرد کے روحانی رشتے کو منفرد انداز میں اجگر کیا۔ انہوں نے یمن سے آنے والے اپنے سابقہ شاگردوں کو قاہرہ میں اپنے گھر کے اندر مہمان نوازی کرکے محبت کی ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔ مصری معلم نے انہیں 1980ء کی دہائی سے پڑھایا اور ان کے اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مضبوط اور گہرے تعلقات تھے۔

ریٹائرڈ مصری استاد محمد محمدی شحاتہ نے اپنے گھر کے ایک پرتعیش حصے کو اپنےان یمنی طلباء کے لیے مختص کیا ہے جو اب پچاس سال کی عمرسے آگے ہیں۔ وہ مصرمیں علاج معالجے یا اپنے رشتہ داروں سے ملنےآتےہیں تو اپنے استاد کےدولت کدے پر حاضری دینے کواپنا شرف سمجھتے ہیں۔

یمن میں اپنے اسکول میں اپنے طلباء کے درمیان مصری استاد

مصری استاد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنےیمنی شاگردوں کے ساتھ محبت کے جذبات سےبھرپور تعلق کے بارےمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 1980ء کی دہائی میں یمنی دارالحکومت صنعا کے مغرب میں واقع مناقہ اور حراز کے علاقے میں ایک اسکول میں استاد کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس کا ان سے گہرا تعلق تھا۔ اس کے طالب علموں اور ان کے خاندانوں کا تعلق بھی یمن سے تھا۔ یمن میں رہتے ہوئے مجھے کبھی پردیس کا احساس نہیں ہوا۔ مجھے ہمیشہ ایسے لگتا جیسے میں اپنے دوسرے وطن میں ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں 1990ء کی دہائی میں مصر واپس آیا۔ اس وقت سے اب تک اپنے طلبہ کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مصری کرنسی کے نایاب سکے، یادگاری تحائف اور یمن سے لائی گئی بہت سی چیزوں کو قلیوبیہ گورنری کے علاقے شیبن القنطر میں یاد گارکے طور پر سنھبال رکھا ہے۔ اس کے علاوہ صنعاء میں جمال عبدالناصر اسٹریٹ پر اپنا گھربھی تبدیل نہیں کیا جو ان کے لیے ایک یادگار ہے حالانکہ ان کے بیٹے اس گھر کو فروخت کرنے کا کہہ رے ہیں۔

الشاب المصري أمير صلاح

مصری استاد کا کہنا ہے کہ چند روز قبل اس کی ملاقات ایک مصری نوجوان امیر صلاح سے ہوئی، جو یمن میں کام کرنے والے مصری اساتذہ اور ان کے کے طلبہ کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک خوبصورت اقدام پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن سے ملاقاتوں اور علاج کے لیے آنے والے بہت سے طلباء ان سے رابطہ کرتے ہیں جہاں وہ انہیں مصر میں قیام کے دوران مفت رہائش اور کھانا فراہم کرتے ہیں حالانکہ انہیں مصرمیں مختصر قیام کے دوران 20 سے30 ہزار مصری پاؤنڈز صرف کرنا پڑت سکتے ہیں۔

شحاتہ کا کہنا ہے کہ اس اور اپنے طلبا اور اپنے ملک کے لیے اس کی محبت اور جذبے کے پیش نظرانھوں نے مصر پہنچنے والے کسی بھی یمنی طالب علم کے لیے تمام فرنیچر، بجلی کے آلات سے لیس ایک لگژری اپارٹمنٹ مفت مختص کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ ان سے ملنے اور ان کے ساتھ یادیں تازہ کرنے کےموقعے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

طلباء کو استاد سے ملانے کے لیے کام کرنے والے امیر صلاح نے کہا کہ وہ یمن میں پیدا ہوئے۔ وہاں 17 سال رہے۔ اس دوران یمن میں کام کرنے والے مصری اساتذہ کے بارے میں ایک پروگرام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کچھ یمنیوں سے بات کی۔ انہوں نے یمن میں کام کرنے والے درجنوں مصری اساتذہ کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنے پروگرام میں مصری اساتذہ کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ وہ پہلے ہی تقریباً 2,000 اساتذہ و رجسٹرڈ کرچکے ہیں جن میں استاد محمد شحاتہ بھی شامل ہیں۔

امیرصلاح نے کہا کہ یمنی طلباء ان کے اور مصری استاد کے درمیان ایک ربط تھے اور انہوں نے ان کے ساتھ رجسٹریشن کرائی اور اس سیشن کے دوران انہوں نے کچھ یمنیوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جو مناقہ اور حرز میں ان کے شاگرد تھے۔

اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے مصر کے دورے کے دوران رہائش کے لیے بہت زیادہ رقم کے لیے اپارٹمنٹس کرائے پر لے رہے ہیں۔استاد نے اس سیشن میں فوری طور پر اپنے گھر میں ان کے لیے ایک اپارٹمنٹ مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک شفیق استاد کی طرف سے اپنے پرانے شاگردوں کے لیے محبت بھرے تحفے سے کم نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں