جرمن صدر اپنے دورہ ترکیہ میں کباب کی دکان کے مالک کو ساتھ کیوں لائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئر پیر کے روز استنبول پہنچے جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ترکیہ کے تین روزہ دورے کا پہلا مرحلہ ہے۔

سرکاری طور پر شٹاین مائر کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 100 ویں سالگرہ منانا ہے۔

اس موقع پر جرمن صدر نے ترک تارکین وطن کی تعریف کی جنہوں نے جرمنی کی تعمیر میں کردار ادا کیا۔ اسے مضبوط بنایا اوروہ جرمن معاشرے کے دل میں بستےہیں‘‘۔ شٹاین مائر نے یہ بات سرکیکی سٹیشن پرپہچنے کے بعد کہی جہاں سے 1960ء کی دہائی میں ہزاروں ترکوں نے اپنا ملک چھوڑ کر مغربی جرمنی میں کام کیا۔

ایک غیر معمولی اقدام میں جرمن صدر ایک کباب کی دکان کے مالک ’عارف کلیس‘ کو بھی ہمراہ لائے۔ ان کا خاندان تین نسلوں سے برلن میں کباب کی دکان کا مالک ہے۔ انہیں صدارتی طیارے میں مدعو کیا گیا اور استنبول میں باسفورس کے کنارے پر شام کے سرکاری استقبالیہ میں کباب کے پکوان پیش کیے گئے۔

انہوں نے ’اےایف پی‘کو بتایا کہ کباب کا گوشت "ہمارے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہے"۔

ترک تارکین وطن نے کباب سینڈوچ جرمنی میں متعارف کرائے ہیں۔ جرمن صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ اس کے بعد سے کباب ایک قسم کی جرمن قومی ڈش بن گئی ہے۔

جرمن کباب سیکٹر جس کی سالانہ فروخت کا حجم تقریباً سات بلین یورو ہے، ترکوں کے انضمام کی کامیابی کی علامت ہے۔

کیلس نے کہا کہ میں اس سفر اپنے تعارف کی ایک بڑی علامت سمجھتا ہوں۔

ان کے دادا نے 1986ء میں اسنیک بار کھولنے سے پہلے ایک لوہے کے کارخانے میں برسوں کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اب صدر مجھے پوتے کے طور پر میرے آباؤ اجداد کے وطن لے جا رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں