حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے شام میں اپنی عسکری موجودگی کم کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنانی حزب اللہ اور سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ایک قریبی ذرائع نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے متعدد فضائی حملوں اور ان میں اہم فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد ایران نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کر دیا ہے۔

شام میں تنازع کے پہلے سالوں سے ایران سیاسی، عسکری اور اقتصادی طور پر صدر بشار الاسد کا سب سے نمایاں حامی رہا ہے۔ آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے تقریباً تین ہزار جنگجو اور فوجی مشیر شام میں تعینات ہیں لیکن تہران صرف حکومتی فورسز کی مدد کرنے والے مشیروں کی بات کرتا ہے۔

تہران شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں حزب اللہ کی قیادت میں اپنے وفادار گروپوں کی حمایت کرتا ہے۔ آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام میں مختلف جگہوں پر دسیوں ہزار ایران نواز جنگجو، شامی، لبنانی، افغان اور پاکستانی عسکریت پسند موجود ہیں۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ایرانی افواج نے گذشتہ ہفتوں کے دوران جنوبی شام کے علاقے کو خالی کر دیا اور دمشق کے دیہی علاقوں، درعا اور قنیطرہ میں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹ گئے"۔

انہوں نے ایران کے وفادار دھڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "اس کا صرف دمشق میں ایک نمائندہ دفتر ہے جس کے ذریعے شامی ریاست اور اتحادیوں کے درمیان بات چیت ہوتی ہے۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملاقاتیں "ایرانی قونصل خانے کے اندر منعقد کی گئیں۔ ایران کا خیال تھا کہ ملاقاتیں کرنے والے اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہیں گے"۔

لیکن اپریل کے شروع میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ ایران کے لیے ایک دردناک دھچکا تھا جس میں ایران کی پاسداران انقلاب کے دو سینیر کمانڈروں سمیت سات جنگجومارے گئے تھے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا کہ "ایرانی فورسز نے دمشق میں اپنے ایک ہیڈ کوارٹر کو خالی کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں اور دیگر عراقیوں نے مذکورہ علاقوں میں ایرانی افواج کی جگہ لے لی۔

قونصل خانے کو نشانہ بنانے کے جواب میں 13 اپریل کی رات ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرون اور میزائل داغے، ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر بمباری کے جواب میں یہ ایران کا پہلا براہ راست حملہ تھا تاہم گذشتہ جمعہ کو اسرائیل نے ایران کے اندر ایک فضائی حملہ کیا۔

اگرچہ قونصل خانے پر بمباری نے شام میں متعدد گورنریوں سے ایرانی افواج کے انخلاء کو تیز کر دیا، لیکن فوجی موجودگی کو کم کرنے کا عمل سال کے آغاز میں شروع ہوگیا تھا۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے وضاحت کی کہ ایرانی فورسز کی تعداد میں کمی ایک چھاپے کے بعد شروع ہوئی جس میں تہران نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے 20 جنوری کو دمشق میں میزے محلے میں ایک عمارت پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ ایرانی مشیروں سمیت پاسداران انقلاب کے دو سینیر کمانڈر ہلاک ہوگئے تھے۔

25 دسمبر کو ایران نے اسرائیل پر پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ایک سینئر کمانڈر راضی موسوی کو دمشق کے قریب ایک حملے میں ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا۔

آبزرویٹری کے مطابق ایرانی مشیروں کی ایک کھیپ مارچ کے مہینے میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے وہاں سے چلی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں