یمن اور حوثی

حوثیوں نے گرمائی سیزن میں بچوں کو فوجی تربیت کے لیے بھرتی کرنا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے ایران نوازحوثی باغیوں نے حسب معمول موسم گرما کے تربیتی پروگرام کے تحت 60 دن کے لیے کم عمر بچوں کو عسکری تربیت دینےکے لیے بچوں کی بھرتی شروع کی ہے۔ حوثی بچوں کو مختلف نوعیت کے لالچ سے ان کیمپوں میں لاتے ہیں اور انہیں فوجی تربیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز نے حوثی ملیشیا کے موسم گرما کے ملیشیا کیمپوں کے خطرات کے بارے میں متنبہ کیا اور اسے ٹائم بم قرار دیا گیا ہے۔ نیٹ ورر کا کہنا ہےکہ بچوں کو ان کیمپوں میں انتہا پسندانہ حوثی نظریات سکھانے اور حکمت عملی پروپیگنڈے کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نیٹ ورک نے اس بات پر زور دیا کہ ملیشیا ان کیمپوں کو بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو انتہا پسند فرقہ وارانہ نظریات سے متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے اور انہیں محاذوں پر بھیجنے کی تیاری میں لڑنے کی تربیت دیتی ہے۔ اس دوران ان بچوں کو بچوں کو جسمانی تشدد اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کے طلباء کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کو نشانہ بنانے والی حوثی ملیشیا ایک فکری وبا اور ذہنی آلودگی کی نمائندگی کرتی ہے جس کے دوران آئندہ کی جنگوں کے لیے بچوں کے ذہن سازی کی جاتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں موسم گرما کے بیشتر مراکز ہ در حقیقت ایرانی ماہرین کے زیر نگرانی دہشت گردی کے تربیتی کیمپ ہیں اور وہ بچوں کو اسلحہ کی تربیت دینے اور انتہا پسندانہ نظریات کو پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس تناظر میں حوثی ملیشیا کے ایک ممتاز رہ نما نے اعتراف کیا کہ اس کے کنٹرول کے شعبوں میں گروپ کے ذریعہ قائم کردہ موسم گرما کے مراکز کے بیشتر فارغ التحصیل افراد کو جنگ میں ہلاک کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں