غزہ کے مظاہروں کے مرکز کولمبیا یونیورسٹی میں طلباء کی ہنگامہ آرائی

کولمبیا یونیورسٹی کے طلباء نے بدھ کے روز امریکی ایوان کے سپیکر مائیک جانسن کو للکارا اور ناراضگی کا اظہار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کولمبیا یونیورسٹی کے طلباء نے بدھ کے روز امریکی ایوان کے سپیکر مائیک جانسن کو للکارا اور ناراضگی کا اظہار کیا جب وہ یونیورسٹی کے دورے پر تھے۔ کولمبیا یونیورسٹی اس وقت غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف طلباء کے ملک گیر مظاہروں کا نقطۂ اشتعال بنی ہوئی ہے حتیٰ کہ نیویارک سکول نے احتجاجی کیمپ ختم کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹے کے مذاکرات پر اتفاق کیا۔

جانسن کا دورہ ایک ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کے فوراً بعد ہوا جس کا مقصد ان کے مطابق کچھ اسرائیل مخالف مظاہرین سے خوف زدہ یہودی طلباء کی حمایت کرنا تھا۔ مذکورہ ڈیڈلائن یونیورسٹی نے ایک معاہدہ کرنے کے لیے بدھ کی صبح سے جمعہ کی صبح تک بڑھائی تھی۔ یہ معاہدہ کیمپس کی احتجاجی تحریک کی علامت کے طور پر سامنے آنے والے کیمپ کو ہٹانے کے لیے ہونا تھا۔

کیمپس کے کچھ احتجاجی مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طاقت کے مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیکساس میں بدھ کے روز حفاظتی ملبوسات میں ریاستی شاہراہ پر گشت کرنے والے دستوں اور گھڑسوار پولیس اہلکاروں نے آسٹن کی ٹیکساس یونیورسٹی میں احتجاج کو منتشر کر دیا اور 20 افراد کو گرفتار کر لیا۔

جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی نے اپنا کیمپس بند کرنے کا اعلان کیا اور لاس اینجلس کے محکمہ پولیس سے مظاہرے کو ختم کرنے کو کہا۔ احتجاجی کیمپ کو گرانے والی کیمپس پولیس پر مظاہرین نے غلبہ پا لیا تو انہوں نے لاس اینجلس کے محکمہ پولیس سے مدد کی درخواست کی جس کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے ایک ایک کر کے طلباء کو گرفتار کر لیا جنہوں نے پرامن طور پر گرفتاری دے دی۔

دیگر مظاہرے پروویڈنس میں براؤن یونیورسٹی، رہوڈ آئی لینڈ، این آربر میں یونیورسٹی آف مشی گن، کیمبرج میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ہمبولٹ میں کیلیفورنیا اسٹیٹ پولی ٹیکنک میں ہوئے۔

احتجاج کرنے والے طلباء نے یونیورسٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اثاثہ جات منقطع کریں اور امریکی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو روکے۔

اسرائیل کا شدید ردِعمل سات اکتوبر کو غزہ کے محصور علاقے پر کنٹرول کرنے والے حماس کے مزاحمت کاروں کے سرحد پار حملے کے بعد ہوا۔

کبھی کبھی کی بے ہودہ ناراضگی اور مداخلت جس سے جانسن کا واسطہ پڑا، وہ اس سے پریشان نہیں ہوئے حالانکہ انہیں سننا مشکل تھا کیونکہ وہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے نہیں، میڈیا مائکروفون سے بات کر رہے تھے۔

جانسن نے یونیورسٹی کی لائبریری کی سیڑھیوں پر کہا، "چونکہ کولمبیا نے ان لاقانونیت پسندوں اور مشتعل افراد کو قبضہ کرنے کی اجازت دی ہے تو یہود دشمنی کا وائرس دوسرے کیمپس میں پھیل گیا ہے۔" انہوں نے پرتشدد مظاہرین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور قانون نافذ کرنے میں ناکام رہنے والی یونیورسٹیوں کے وفاقی فنڈز کو روکنے کی دھمکی دی۔

جانسن جدت پسند گڑھ کے طور پر معروف نیویارک سٹی کیمپس میں طلباء کی جانب سے سردمہر استقبال کی توقع کر سکتے تھے۔ ان کی بطور ہاؤس سپیکر ملازمت کو ان کے کاکس میں انتہائی قدامت پسند ریپبلکنز کی طرف سے خطرہ ہے۔

سیاسی طور پر تقسیم شدہ ملک میں قدامت پسند جدت پسند کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نمبر بنا سکتے ہیں جن میں سے کئی یہ کہتے ہیں کہ ریپبلکن کی طرف سے کیمپس میں یہود مخالف تشدد کو سیاسی مقاصد کے لیے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔

جانسن نے یہودی طلباء سے بھی ملاقات کی جنہوں نے کہا کہ وہ کیمپس میں آنے سے خوفزدہ تھے۔ انہوں نے یہودی طلباء کی گواہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر تھوکا گیا تھا اور انہوں نے دیواروں پر سواستیکا (نازی پارٹٰی کا نشان) بنے ہوئے دیکھے تھے۔

وہاں موجود طلباء کے مطابق جانسن نے اپنی پریس کانفرنس سے قبل کیمپس میں تقریباً 40 یہودی طلباء سے ملاقات کی۔

کیمپ میں موجود طلباء کہتے ہیں کہ ان کا احتجاج پرامن رہا ہے اور یہ کہ کیمپس سے باہر کسی بھی اشتعال انگیز تصادم کے پیچھے باہر کے لوگ ہیں جن کا ان کی تحریک سے تعلق نہیں۔

سکول انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا حصہ رہنے والے کولمبیا کے ایک فلسطینی طالب علم محمود خلیل نے کہا، "ہمیں افسوس ہے کہ اس پرامن تحریک پر کوئی توجہ نہیں ہے اور سیاست دان اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔"

آزاد تقریر کے حامی غیر منافع بخش ادارے پی ای این امریکہ نے یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اچانک ہونے والی کشیدگی کو "انتہائی تشویشناک" قرار دیا۔

پی ای این میں کیمپس کے فری سپیچ پروگرام کے ڈائریکٹر کرسٹن شاہورڈین نے ایک بیان میں کہا، "انتظامیہ کو اپنے طلباء کو محفوظ رکھنے اور کیمپس کو چلانے کے لیے اپنے اختیار میں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے لیکن ایک پرامن احتجاج جو بمشکل شروع ہی ہوا تھا، اسے منتشر کرنے کے لیے ریاستی پولیس کو طلب کرنے سے نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔"

سیاسی بازگشت وائٹ ہاؤس تک جا پہنچی جہاں پریس سکریٹری کیرین جین-پیئر نے کہا کہ صدر جو بائیڈن یقین رکھتے ہیں کہ کالج کیمپس میں آزادانہ تقریر، بحث و مباحثہ اور غیر امتیازی سلوک اہم ہیں۔

جین-پیئر نے بدھ کی پریس بریفنگ میں کہا۔ "ہم اسے پرامن دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ طلباء محفوظ محسوس کریں۔۔ یہ پرتشدد نہیں ہونا چاہیے، یہ نفرت انگیز بیان بازی نہیں ہونی چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں