ملالہ کی طرف سے میوزیکل تھیٹرمیں تعاون پر منفی ردِعمل کے درمیان غزہ کی حمایت کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے جمعرات کو اسرائیل کی مذمت کی اور غزہ میں فلسطینیوں کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جب براڈوے میوزیکل پر ان کے آبائی ملک پاکستان میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ براڈوے میوزیکل 'سفز' انھوں نے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ مل کر تیار کی ہے۔

2014 میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی یوسفزئی کی ہلیری کلنٹن کے ساتھ شراکت داری پر کچھ لوگوں نے مذمت کی ہے جو حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کی واضح حامی ہیں۔

'سفز' کے عنوان والی اس میوزیکل پرفارمنس میں 20 ویں صدی میں ووٹ کے حق کے لیے امریکی خواتین کے حقِ رائے دہی کی مہم دکھائی گئی ہے اور یہ گذشتہ ہفتے سے نیویارک میں جاری ہے۔

یوسفزئی نے ایکس پر لکھا، "میں چاہتی ہوں کہ غزہ کے لوگوں کے لیے میری حمایت کے بارے میں کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ جنگ بندی فوری اور ضروری ہے، ہمیں مزید لاشیں، سکولوں پر بمباری اور بھوک سے مرتے ہوئے بچوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "میں اسرائیلی حکومت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کرتی رہی ہوں اور کرتی رہوں گی۔"

گذشتہ اکتوبر میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے کئی شدید جذباتی فلسطینی حامی احتجاج دیکھے ہیں۔

مقبول پاکستانی کالم نگار مہر تارڑ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، یوسفزئی کا "ہیلری کلنٹن -- جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے امریکہ کی واضح حمایت میں کھڑی ہیں -- کے ساتھ تھیٹر میوزیکل پروڈکشن میں تعاون ایک انسانی حقوق کارکن کے طور پر ان کی ساکھ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔" نیز انہوں نے لکھا، "میں اسے انتہائی افسوسناک سمجھتی ہوں۔"

جہاں کلنٹن نے حماس کے خاتمے کے لیے فوجی مہم کی حمایت کی اور جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے، وہیں انہوں نے واضح طور پر فلسطینی شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یوسفزئی نے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی کہ 26 سالہ نوجوان ملالہ نے گذشتہ جمعرات کو "سفز" کے افتتاح کے موقع پر سرخ اور سیاہ پن پہنا جو جنگ بندی کے لیے ان کی حمایت کی نشاندہی کرتا تھا۔

لیکن مصنف اور ماہرِ تعلیم ندا کرمانی نے ایکس پر کہا کہ یوسف زئی کا کلنٹن کے ساتھ شراکت کا فیصلہ "بیک وقت غصے سے پاگل کر دینے والا اور دل شکن تھا۔ یہ مکمل مایوسی ہے۔"

کلنٹن نے امریکہ کی اعلیٰ سفارت کار کے طور پر سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دوران خدمات انجام دیں جس نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مہم کی نگرانی کی۔

یوسف زئی کو 2012 میں نوعمری میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے زور دینے پر پاکستانی طالبان نے سر میں گولی مار دی تھی جس کے بعد انہوں نے اپنا نوبل امن انعام حاصل کیا۔

البتہ یوسفزئی کے آبائی علاقے میں ڈرون جنگ سے متعدد شہریوں ہلاک اور معذور ہو گئے جس کی وجہ سے کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ کو زیادہ آن لائن تنقید کا نشانہ بنایا گیا جنہوں نے 17 سال کی عمر میں انعام حاصل کیا۔

یوسفزئی کو اکثر پاکستان میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جہاں ناقدین ان پر قدامت پسند ملک میں مغربی نسائی اور جدت پسند سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں