کیا مصر رفح پر اسرائیلی حملہ روکنے کےلیے مذاکرات پر زور دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کے جنوبی شہر رفح پر اسرائیلی فوج کی چڑھائی کے حوالے سے آج جمعرات کو اسرائیلی جنگی کونسل کا اجلاس متوقع ہے جس میں جنوبی غزہ کی پٹی کے شہررفح پر متوقع حملے پر بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب مصر نے رفح پر اسرائیلی فوجی چڑھائی کے نتیجے سے خبردار کرتے ہوئے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے ذرائع نے بتایا ہےکہ قاہرہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد رفح میں اسرائیلی فوج کے داخلے کو روکنا ہے۔

جمود کو توڑنے کے لیے نئے آئیڈیاز

غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع علاقے رفح پراسرائیلی فوج کے حملے کے بارے میں بڑھتے دباؤ کے ساتھ اسرائیل نے "نئے وسیع خطوط جو حماس کے ساتھ مذاکرات" کے لیے غور شروع کیا ہے۔

مذاکرات کی پیشرفت سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے ارکان آج متوقع اجلاس کے دوران مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کا خلاصہ وصول کریں گے۔

خان یونس میں خیمے لگائے گئے ہیں
خان یونس میں خیمے لگائے گئے ہیں

قیدیوں کے تبادلے پرابتدائی بات چیت گزشتہ اتوار کو جنگی کابینہ کے اجلاس میں شروع ہوئی تھی جس میں مذاکرات میں تعطل کو توڑنے کے لیے نئے آئیڈیاز پیش کیے گئے تھے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے ’ایکسیس‘ کو بتایا کہ ان تجاویز کو آج کے اجلاس میں مزید تفصیل سے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

ایک اور اسرائیلی اہلکار نے وضاحت کی کہ مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو اسرائیل کی جنگی کونسل نے بہترین ممکنہ تجویز تیار کرنے اور پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

تاہم اہلکار نے کہا کہ "یہ اسرائیل کی اندرونی بات چیت ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حماس یا ثالثوں کی طرف سے میز پر کوئی پیش کش موجود ہے ہے"۔

دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی کے باقی حصوں میں نصف سال سے جاری اسرائیلی حملے کی وجہ سے بے گھر ہونے والے دس لاکھ سے زائد فلسطینی مصری سرحد سے ملحقہ شہر رفح میں پناہ لے رہے ہیں۔

رفح میں غزہ سے بے گھر افراد
رفح میں غزہ سے بے گھر افراد

اسرائیل نے شہر پر حملہ کرنے کے لیے زمین پر تیاریاں شروع کی ہیں جہاں اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس کے آخری سیل موجود ہیں۔ دوسری جانب کچھ سیٹلائٹ تصاویر میں خان یونس شہر میں کھڑے سفید خیمے دکھائی دیے جو پہلے نظر نہیں آتے تھے۔

اسرائیلی وزارت دفاع نےبتایا کہ اس نے 40,000 خیمے خریدے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 10 سے 12 افراد کے رہنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسرائیلی فوج نے بھی کھلے عام اس بات کی تصدیق کی کہ وہ شہر پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن سیاسی قیادت کی جانب سے اشارے کا انتظار کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں