ہمارا ریاض آفس خلیجی ملکوں سے روابط کو گہرا کرنے میں مدد کرے گا: آئی ایم ایف

دفتر خطے میں ماہرین اقتصادیات اور اداروں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں فنڈ کی مدد کرے گا: ڈائریکٹر عبد العزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ریاض میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے دفتر کے نئے ڈائریکٹر عبدالعزیز وان نے کہا ہے کہ فنڈ کا مقصد ریاض میں اپنے علاقائی دفتر کے ذریعے فنڈ اور خلیجی خطے کے حکام اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کو گہرا کرنا ہے۔

عبد العزیز وان نے ریاض میں آئی ایم ایف کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر العربیہ بزنس کو ایک انٹرویو دیا۔ انہوں نے کہا ہم حکومتوں کے ساتھ مل کر خطے میں معاشی ماہرین اور اداروں کی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لیے آئی ایم ایف کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔ ہم حکام کے ساتھ مل کر خطے میں پالیسی سازوں اور خطے سے باہر کے پالیسی سازوں کے درمیان سیکھنے کے مقامات اور رائے کے تبادلے کے لیے فورمز بھی بنائیں گے۔

عبد العزیز نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور خلیجی خطے خاص طور پر سعودی عرب کے حکام کے درمیان بات چیت کو گہرا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہم نے ریاض کا انتخاب کیا کیونکہ فنڈ اور سعودی حکومت کے درمیان بہترین تعلقات ہیں۔

وان نے یہ بھی کہا کہ سعودی وزیر خزانہ انٹرنیشنل مانیٹری اینڈ فائنینشل افیئرز کمیٹی (IMFC) کی سربراہی کرتے ہیں اور سعودی عرب کو نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے لیے اس خطے میں ایسی موجودگی ضروری ہے جو مستقبل کی دنیا کو تشکیل دینے میں معاون ہو۔

واضح رہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے سعودی عرب میں اپنے علاقائی دفتر کا بدھ کو آغاز کیا ہے۔ یہ افتتاح ریاض میں سعودی وزارت خزانہ کے تعاون سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے زیر اہتمام "اقتصادی تنوع کو فروغ دینے کی صنعتی پالیسیاں" کانفرنس کے موقع پر کیا گیا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے حال ہی میں کہا تھا ریاض میں ہمارا نیا دفتر عرب اداروں کے ساتھ ہماری موجودگی اور شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرے گا۔ یہ قدم خطے کی سب سے بڑی معیشت اور G20 ممالک کی سب سے نمایاں معیشتوں میں سے ایک کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں