18 ممالک کے گروپ کا حماس سے یرغمالیوں کی فوری رہائی اور معاہدہ قبول کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کو 18 ممالک کے گروپ نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے یرغمال بنائے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کرے اور جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرے۔

رکن ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "ہم اپنے لوگوں کو گھر لانے کے لیے ثالثی کی جاری کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم حماس سے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ یرغمالیوں کو رہا کرے اور ہمیں اس بحران کو ختم کرنے دے تاکہ اجتماعی طور پر ہم خطے میں امن و استحکام لانے کے لیے اپنی کوششوں پر توجہ مرکوز کر سکیں۔"

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اسی طرح کا بیان جاری کرنے پر معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں پہلے ناکام ہو گئی تھیں۔

لیکن اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعرات کا بیان "دنیا بھر کے کئی رہنماؤں کی طرف سے اتفاق رائے کا ایک غیر معمولی مظاہرہ تھا۔"

اس بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریا، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، کولمبیا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، ہنگری، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، سربیا، سپین، تھائی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے کہا، "میز پر ایک معاہدہ ہے؛ یہ حماس کے تقریباً تمام مطالبات کو پورا کرتا ہے۔۔ اور انہیں جو کرنا ہے وہ یرغمالیوں کے اس کمزور گروہ کو رہا کرنا ہے تاکہ معاملات آگے بڑھ سکیں۔"

اہلکار نے یہ ضرور کہا کہ "کچھ اشارے" ملے تھے کہ معاہدے کے لیے کوئی راستہ ہو سکتا ہے "لیکن میں مکمل طور پر پراعتماد نہیں ہوں۔"

جہاں تک موجودہ تجویز کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ غزہ میں فوری اور طویل جنگ بندی لائے گی اور ساتھ ہی شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی بلا روک ٹوک واپسی کو ممکن بنائے گی۔

جب اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل اور نیتن یاہو حکومت کسی ممکنہ معاہدے کو روک رہے تھے تو انہوں نے صاف گوئی سے اس کا الزام حماس اور اس کے رہنما یحییٰ سنوار پر لگایا۔ اہلکار نے کہا، "اگر میں چھ ہفتے پہلے آپ کے سوال کا جواب دے رہا ہوتا تو شاید میرے پاس کوئی اور جواب ہوتا"۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل موجودہ تجویز اور حماس کو تازہ ترین پیشکش کا حامی اور اس سے متفق ہے۔ البتہ غزہ کے اندر سے ردِعمل "مکمل طور پر غیر تعمیری" تھا۔

عہدیدار نے انکشاف کیا کہ حماس نے اس کے بعد سے یہ اشارے دیئے ہیں کہ وہ موجودہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل طور پر مخالفت نہیں کر رہا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں