استنبول : عدالت نے بم دھماکے میں ملوث شامی خاتون سمیت متعدد کو عمر قید کی سزا سنادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کی ایک مقامی عدالت نے شام کی ایک شہری احلام البشیر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس خاتون پر الزام تھا کہ اس نے 2022 میں استنبول بڑے تجارتی بازار میں ہونے والے بم دھماکہ سے پہلے اس بم کو نصب کیا تھا۔ یہ بم دھماکہ 13 نومبر 2022 کو ہونے والے اس واقعے میں ترکیہ کے چھ شہری لقمہ اجل بن گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہو نے والے کل چھ افراد تین مختلف گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ہر خاندان کے دو دو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ دکانداروں اور سیاحوں سے بھرے رہنے والے اس تجارتی بازار میں دھماکے سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوگئے تھے۔

اس مقدمے میں عدالت نے البشیر کو مجموعی طور پر سات بار عمر قید کی سزا سنائی، جسے پہلے پولیس نے بم نصب کرنے والے شخص کے طور پر شناخت کیا تھا۔

مقدمے میں مزید 30 ملزمان بھی شامل تھے۔ جن میں سے چار جو جمعہ کے روز رہا کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ ان کے خلاف الگ سےمقدمہ چلایا جائے۔ کیونکہ یہ افراد ابھی دستیاب نہیں ہو سکے تھے۔

بیس ملزمان کو چار سال سے عمر قید تک سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں سے چھ ملزمان کو ملکی استحکام میں رخنہ پیدا کرنے کے الزام میں سزائے عمر قید دی گئی ہے۔

ترکیہ نے دھماکے کے لیے کرد عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ استقلال ایونیو پر حملے کا حکم شمالی شام کے علاقے کوبانی میں دیا گیا تھا، جہاں حالیہ برسوں میں ترک افواج نے شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

وہ ملیشیا اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی عسکریت پسند گروپ، جس نے ترک ریاست کے خلاف دہائیوں پرانی کرد بغاوت شروع کر رکھی ہے۔اس گروپ بھی نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں