جامعہ الازہر کی جانب سے غزہ میں شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ جرائم کی مذمت

عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور غزہ کے عوام کے خلاف جارحیت کو روکے: الازہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قدیم ترین علمی درسگاہ الازہر الشریف نے "غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف ہونے والے دہشت گردانہ جرائم" کی شدید مذمت کی ہے۔

عالم اسلام کے عظیم علمی مرکز نے ایک بیان میں حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کی "جن کی سفاکی کی خبریں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی اُن رپورٹس کے ذریعے سامنے آئیں جو ناصر اور الشفاء میڈیکل کمپلیکسز کے گرد ونواح میں سینکڑوں بچوں، عورتوں، عمر رسیدہ افراد اور طبی عملے کی لاشوں کی اجتماعی قبروں کے بارے میں تھیں"۔

نیز الازہر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "اس کے علاوہ پناہ اور نقل مکانی کے مراکز، خیموں اور پوری پٹی میں رہائشی محلوں میں درجنوں لاشیں "بکھری ہوئی" پائی گئیں۔"

الازہر نے کہا کہ اس نے دنیا کے سامنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "یہ اجتماعی قبریں اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ یہ سفاکانہ مظالم اور ہولناکی اسرائیل کے لیے روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔"

اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے لوگوں کو اس طریقے سے احتجاج کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے جو ان جرائم کی حمایت کرنے والی حکومتوں کو روکے۔

الازہر نے "دہشت گرد قابض حکومت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جو اب انسانیت کے معنی یا زندگی کے حق کو نہیں جانتی اور ہر روز نسل کشی کر رہی ہے۔"

بیان میں اس ضرورت کا اعادہ کیا گیا کہ بین الاقوامی برادری اپنی ذمہ داریاں سنبھالے، غزہ کے لوگوں کے خلاف "جنونی جارحیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مصائب اور بے مثال انسانی آفات کو روکے اور شہریوں کے تحفظ اور غزہ کی پٹی کے تمام حصوں تک مناسب اور پائیدار انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔"

الازہر نے فلسطینی عوام اور شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ وہ انہیں اپنی وسیع رحمت و مغفرت سے نوازے، ان کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کو صبر عطا فرمائے اور بیماروں کو تیزی سے صحت یاب کرے۔"

میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الازہر نے کہا کہ خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں ہفتے کے روز سے سینکڑوں فلسطینیوں بشمول مریضوں کی لاشیں اجتماعی قبروں سے نکالی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں