غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر کا ایک وفد اسرائیل بھیجنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی امید میں مصر ایک اعلٰی سطح کا وفد اسرائیل بھجوا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصری حکام نے بتایا کہ انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ عباس کمال دورہ اسرائیل کے دوران واضح کریں گے کہ غزہ کی مصر کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی فوجوں کی تعنیاتی ’برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

حکام نے مزید بتایا کہ مصر کی سرحد کے ساتھ واقع غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیل کے ممکنہ نئے حملوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے کہ اس کے علاقائی استحکام پر تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ عسکریت پسند گروپ اسرائیل کے ساتھ پانچ سالہ یا اس سے زیادہ عرصے پر محیط معاہدہ کرنے کے لیے رضامند ہے۔

سات اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے 34 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جس میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی میں سے نصف سے زیادہ رفح میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج چھاپے مارتی ہے۔ رفح پر ممکنہ حملے کی تیاری کے لیے اسرائیلی فوج نے علاقے میں متعدد ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی ہوئی ہیں۔

علاوہ ازیں لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے متنازع سرحدی علاقے میں اسرائیلی فوجی قافلے پر ٹینک شکن میزائل فائر کیے جس میں ایک اسرائیلی شہری کی موت واقع ہوئی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی رات گئے اس کے جنگجوؤں نے قافلے پر حملہ کیا جس میں دو گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں ایک اسرائیلی شہری زخمی ہوا تھا تاہم بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس کی موت واقع ہو گئی۔

اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر جاری لڑائی کے باعث ہزاروں کی تعداد میں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لڑائی میں 10 اسرائیلی شہری اور 12 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ لبنان میں 350 سے زیادہ افراد کی موت واقع ہوئی جس میں 50 شہری اور حزب اللہ کے 271 ارکان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں