فلسطینی بچوں کے قتل عام پر مشتعل مراکشی ایک برطانوی کے قتل کا مجرم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں ایک مراکشی شہری کو سزا سنانے کے لئے قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے سات اکتوبر 2023 کو غزہ پر اسرائیلی حملے کے محض ایک ہفتہ بعد ایک بوڑھے برطانوی کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔

پرطانوی پولیس کے بقول بعد ازاں اس نے اعتراف کر لیا تھا کہ اس نے بوڑھے پنشنر پر یہ حملہ غزہ پر اسرائیلی حملے پر مشتعل ہو کر بدلہ لینے کے لیے کیا تھا۔ پولیس کے بقول' اسرائیل غزہ میں بچوں کو مار رہا ہے میں نے اس بوڑھے کا مار ڈالا۔

مراکش کے شہری کا نام احمد الید اور عمر 45 سال بتائی گئی ہے۔ اسے جمعرات کے روز قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق 45 سالہ احمد الید نے 70 سالہ ٹیرینس کارنی کو 15 اکتوبر 2023 کو نارتھ ایسٹ انگلینڈ کے ہارٹل پول کی گلی میں ایک موقع ملاقات کے بعد چھ بار چاقو گھونپ دیا۔

نیز الید پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر میں جاوید نوری پر بھی حملہ کیا، جو عیسائی مذہب تبدیل کر رہا تھا، اسی طرح اس نے مبینہ طور پر دو پولیس افسران پر بھی"اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور حملہ کیا۔

نوری کو نیند کی حالت میں سینے میں بار وار کیے اور زخمی کیا تاہم 31 سالہ نوری کی جان بچ گئی۔کارنی کی موت سینے، پیٹ اور کمر میں چھ بار گھونپنے کے بعد ہوئی۔ ٹیسائیڈ کراؤن کورٹ نے اس کے مقدمے کی سماعت کے آغاز میں سنا۔ جمعرات کے روز ٹیسائیڈ کراؤن کورٹ کی جیوری نے متفقہ طور پر الید کو کارنی کے قتل، نوری کو قتل کرنے کی کوشش اور دو پولیس افسران پر حملہ کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران یہ بات سامنے لائی گئی کہ پولیس نے قتل کے مقام کے قریب سے الید کو اس کی کمر میں خون آلود چاقو کے ساتھ گرفتار کیا، اور بعد میں اس نے افسران کو بتایا کہ اس نے غزہ جنگ کی وجہ سے یہ قتل کیا تھا۔

پراسیکیوٹر جوناتھن سینڈیفورڈ نے کہا کہ 'اس نے کہا کہ وہ غزہ کے تنازعے کی وجہ سے انہیں قتل کرنا چاہتا تھا اور اس خواہش کو مزید آگے بڑھانا چاہتا تھا تاکہ کہ فلسطین صہیونیوں سے آزاد ہو۔'

عدالت میں مدعا علیہ نے کہا کہ 'اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا تو وہ مزید لوگوں کو مارتا۔'سینڈی فورڈ نے مزید کہا کہ الید نے اپنی تفتیش کے دوران کارنی کو ایک معصوم شکار کے طور پر بیان کیا تھا، لیکن وہ مارا گیا تھا کیونکہ برطانیہ نے صہیونی وجود یعنی اسرائیل کو بنایا تھا ۔

پراسیکیوٹر کے مطابق الید کہا ' انہوں نے بچوں کو مارا ہے اور میں نے ایک بوڑھے کو مار ڈالا ہے۔ پراسیکیوٹر کے بقول کلیولینڈ پولیس کی ڈپٹی چیف کانسٹیبل وکٹوریہ فلر نے کہا کہ ' اس قتل نے کمیونٹی کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ الید کے اقدامات نے نہ صرف ایک خاندان کو تباہ کر دیا، بلکہ ہارٹل پول اور اس سے باہر کے رہائشیوں میں خوف اور پریشانی کا باعث بھی بنا ہے۔' الید کو اب 17 مئی کو سزا سنائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں