غزہ کی پٹی تباہ برباد اور حماس کی قیادت کو جہاں بھی ختم کردیا جائے: سموٹریچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ایک بارپھر سخت الفاظ میں غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جاری جنگ کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے سود اور اسرائیلی قومی سلامتی کے لیے ضرر رساں مذاکرات کے بجائے غزہ کی پٹی کو باہ برباد کرکے حماس کی قیادت کو دنیا کے جس کونے میں ہو اسے ختم کیا جائے۔

موساد وہ کام کرے جس کی اسے تربیت دی گئی ہے

آج جمعہ کو انتہا پسند اسرائیلی وزیر نے موساد کی انٹیلی جنس سروس سے حماس کے رہ نماؤں کو قتل کرنے اور غزہ کی پٹی کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر شائع کی گئی متعدد پوسٹوں میں کہا کہ موساد کو وہ کام کرنا چاہیے جس کی اسے تربیت دی گئی ہے، یعنی حماس کی قیادت کو ختم کرنا۔

ان کا یہ اشتعال انگیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کی شام جنگی کونسل کو مذاکراتی ٹیمذام، جس میں موساد، شین بیت اور فوج شامل ہیں کی طرف سے پیش کردہ اسرائیلی اقدام کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔ اس اقدام میں حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

سموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ موساد کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ وہی کام کرے جو اسے کرنے کی تربیت دی گئی تھی یعنی پوری دنیا میں حماس کے رہ نماؤں کو ختم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے غیر ذمہ دارانہ اور اسرائیلی سلامتی کے لیے ضرر رساں مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کو غزہ کو مکمل طور پرتباہ کرنے اور حماس کا مکمل قلع قمع کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

"مذہبی صیہونیت" پارٹی کے سربراہ اور وزیر خزانہ نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں حماس سے اب سے صرف گولوں اور بموں سے ہی بات کرنی چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو جلد از جلد رفح میں داخل کرکے حماس کے باقی ماندہ عناصر کو ختم کرنے کی اجازت دی جائے اور اسرائیلی فوج کو غزہ کو تباہ وبرباد کرنے کےلیے ہر سہولت مہیا کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے فوج رفح میں داخل ہو۔ یہ یرغمالیوں کی واپسی کا واحد موقع ہے۔ وقت ضائع کیے بغیر اور کسی الجھن میں پڑے بغیر فوج کو رفح میں داخل کیا جائے‘‘۔

جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کی امید میں ایک مصری وفد آج جمعہ کو تل ابیب پہنچے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ مصری وفد کو جنگ بندی کے بدلے درجنوں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی تجویز کے حوالے سے جواب مل جائے گا۔

اسرائیلی حکام نے اطلاع دی ہے کہ حکومت نے کل جمعرات کو ایک نئی جنگ بندی کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا، جس میں مصری وفد کے آج متوقع دورے سے قبل قیدیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی تھی۔

جبکہ ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ بات چیت خاص طور پر 20 قیدیوں کو ابتدائی طور پر رہا کرنے کی تجویز پر مرکوز تھی جنہیں "انسان دوستی" کے کیسز کے تحت رہا کرنے پرغور کیا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں