فلسطین کی حمایت میں مظاہرے، امریکی پولیس کے ہاتھوں یونیورسٹی اساتذہ کی پرتشدد گرفتاری

یونیورسٹی پروفیسرز کو سڑکوں پر گھیسٹنے اور ان پر تشدد کے واقعات پر عوام میں غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جاری جنگ میں تشدد کے آثار امریکہ تک پہنچ گئے ہیں۔ امریکہ میں چند روز سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی روکنے اور جنگ بندی کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں پولیس نے نہتےمظاہرین کےخلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا ہے۔

امریکی پولیس کے پرتشدد ہتھکنڈوں کی وجہ سے نہ صرف طلبا بلکہ خواتین اساتذہ کو بھی بدترین تشدد سے گذرنا پڑا ہے۔

جمعرات کو ریاست جارجیا میں قانون نافذ کرنے والے حکام نے فلسطینیوں کے حامی مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران یونیورسٹی کی دو خواتین پروفیسروں ایموری یونیورسٹی کی معاشیات کی پروفیسر کیرولین فوہلن اور فلسفے کی پروفیسر نول میکافی کو پرتشدد انداز میں گرفتار کر لیا۔

سوشل میڈیا سائٹس پر امریکہ میں مظاہروں کو منتشر کرنے کے "پرتشدد" مناظر نشر کیے گئے۔ایک منظر میں پروفیسر فوہلن کی گرفتاری کے لمحے کو دکھایا گیا ہے۔ جب اسے گرفتار کیا جا رہا تھا تو پولیس اہلکاروں نے اسے پکڑ پر زمین پر پٹخ دیا اور اس کا سر فٹ باتھ سےٹکرا کر بری طرح زخمی ہوگیا۔ اس موقعے پر وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ "میرا سر میرا سر"۔ جب وہ چیخنے لگیں تو پولیس اہلکاروں نے اسے چھوڑنے کے بجائے مزید سختی سے پکڑا اور اس کے ہاتھ کمر پرباندھے۔ پروفیسر نے کہا کہ"میرا سر سیمنٹ کنکریٹ پر مارا گیا جبکہ پولیس اہلکار اس کی چیخوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے باندھ رہے ہیں‘‘۔

اس نے چلاتے ہوئے مزید کہا کہ "میں ایک پروفیسر ہوں۔ میں ایک پروفیسر ہوں۔ مگر پولیس نے اس کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی"۔

معاشیات کی پروفیسرنے کہا تھا کہ وہ یونیورسٹی آئی تھیں۔ اس دوران انہوں نے دیکھا کہ پولیس اہلکاروں نے یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو زمین پر پھینکا۔ اس کی گردن دبائی اور ممکنہ طور پر اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ اسے سے جان لیوا چوٹ آئی"۔

جب کہ ایک اور ویڈیو میں کالج کے فلاسفی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ نوئل میکافی کی گرفتاری کا لمحہ دکھایا گیا، جہاں ایک پولیس اہلکار اسے ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ساتھ لے گیا۔

ایموری یونیورسٹی کی ایک اور پروفیسر پامیلا سکلی نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ "طلبہ یہاں بیٹھے نعرے لگا رہے تھے۔ 'یہ پرتشدد احتجاج نہیں تھا'۔ تشدد اس وقت بڑھ گیا جب پولیس بندوقیں، مرچ کے اسپرے کے ساتھ پہنچی۔اس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور طلباء کو مارا پیٹا’’۔

امریکی نیوز نیٹ ورک کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کم از کم ایک شخص پر سٹن گن کا بھی استعمال کیا، جسے زمین پر گرا دیا گیا۔

ایموری یونیورسٹی کے ایک سابقہ بیان میں یونیورسٹی نے جمعرات کو کہا تھا "کئی درجن مظاہرین نے جمعرات کی صبح ایموری یونیورسٹی کے کیمپس پر دھاوا بول دیا اور چوک پر خیمے لگا لیے"۔

ایموری میں جمعرات کو ہونے والے مظاہروں کے ساتھ اتحاد کا دعویٰ کرنے والے ایک گروپ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ "جارجیا اسٹیٹ پیٹرول، اٹلانٹا پولیس ڈیپارٹمنٹ، اور ایموری پولیس ڈیپارٹمنٹ دہشت گردی کی اس صریح کارروائی کے ذمہ دار ہیں"۔

گروپ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے گذشتہ جنوری میں احتجاج شروع کیا وہ وہاں "فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے" تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کئی امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف طلباء کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس مظاہروں کو روکنے کے لیے جگہ جگہ تعینات کی گئی ہے اور کئی مقامات پر پولیس کی طرف سے مظاہرین پر تشدد کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے مبینہ طور پر سیکڑوں طلبا کو گرفتار بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں