یرغمالیوں کی بازیابی کا واحد راستہ غزہ کی سرنگوں میں داخل ہونا ہے: بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے زور دے کر کہا ہے کہ یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی بازیابی کا واحد راستہ رفح کی سرنگوں میں داخل ہونا اور حماس کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے بعض علاقوں کی معیشت ناقابل عمل صورت حال سے دوچار ہے، جب کہ اندرونی تقسیم کے باوجود اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے لیے متحد ہے۔

انہوں نے دو ریاستی حل ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور ہم ابھی تک اس سے بہت دور ہیں۔

حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی مکمل جنگ میں بدل سکتی ہے

جان بولٹن نے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا اشارہ اسرائیلی ردعمل کی طرف تھا جس میں حال ہی میں اسرائیل نے تہران کے جنوب میں نطنز جوہری کمپلیکس سے کچھ فاصلے پر ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔

بولٹن نے جمعرات کو العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ اسرائیل حماس کو ختم کرنے کے بعد حزب اللہ کا مقابلہ کرنے پر توجہ دے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ایک جامع جنگ میں بدل سکتی ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔

قیدیوں کے معاملے کا حل

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی جنگی کونسل نے جمعرات کو ایک اجلاس منعقد کیا جس میں قیدیوں سے متعلق مذاکرات کے ساتھ ساتھ جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملے کے بارے میں بات چیت کی گئی جہاں آنے والے دونوں میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی متوقع ہے۔

اس یرغمالیوں کے حوالے سے ابتدائی بات چیت گذشتہ اتوار کو جنگی کابینہ کے اجلاس میں شروع ہوئی تھی جس میں مذاکرات میں تعطل کو توڑنے کے لیے نئے آئیڈیاز پیش کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں