امریکی یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حامی کیمپ کا خاتمہ، 100 افراد پولیس کے زیرِ حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سکول نے بتایا کہ پولیس پرتشدد یہود مخالف نعروں کے جواب میں فلسطینی حامی مظاہرین کے خیمے خالی کرنے کے لیے کیمپس میں داخل ہوئی اور تقریباً 100 افراد کو حراست میں لے لیا۔

سکول نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب مظاہرین نے ’یہودیوں کو مار ڈالو‘ سمیت شدید یہود مخالف نعروں کا سہارا لیا اور حدود سے تجاوز کیا۔

حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کے خلاف مظاہرے اس ماہ کے شروع میں کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے اور ملک کے طول و عرض کے تعلیمی کیمپسز تک پھیل گئے۔

انہوں نے یونیورسٹی کے منتظمین کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے جو کیمپس کی طرف سے آزادائ اظہار کے وعدوں کو اُن شکایات کے ساتھ متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جلوس ایک حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔

اپنے بیان میں نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے کہا کہ ہفتے کے روز کیمپس میں ایک "غیر مجاز کیمپ" کو خالی کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں کی حمایت سے پولیس داخل ہوئی۔

سکول نے کہا، "جو دو دن پہلے طلباء کے مظاہرے کے طور پر شروع ہوا تھا، اس میں پیشہ ور منتظمین گھس آئے جن کا نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ اُن زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جنہوں نے سکول کی درست شناخت پیش کی اور انہیں قانونی نہیں، تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سکول نے کہا کہ جن لوگوں نے اپنی وابستگی ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں