قبرص سے غزہ تک سمندری راستے سے امدادی سرگرمیاں کئی ہفتوں بعد بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قبرص سے غزہ تک سمندری راستے سے ہونے والی امدادی سرگرمیاں کئی ہفتوں تک معطل رہنے کے بعد جمعہ کی شام دیر گئے بحال ہوگئی ہیں۔ یہ امدادی سرگرمیاں 'ورلڈ سینٹرل کچن' کی 7 رکنی ٹیم کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت کے بعد احتجاجاً معطل کی گئی تھیں۔ تاہم اس دوران غزہ سے متصل امریکہ کی عارضی بندرگاہ کا کام بلا رکاوٹ تیزی سے جاری رہا۔

قبرصی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ایک بحری جہاز امدادی سامان کے ساتھ اسرائیل کے زیر محاصرہ غزہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس جہاز پر متحدہ عرب امارات کا عطیہ کیا گیا امدادی سامان اور خوراک غزہ کے لیے بھیجا گیا۔

واضح رہے بحری راستے سے امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات شروع سے ہی امدادی سامان اور خوراک مہیا کر رہا ہے۔ قبرص نے اپنی بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ سپین نے بحری جہاز پیش کیا ہے۔ اس سارے عمل کو کوارڈینیٹ کرنے کے لیے 'ورلڈ سینٹرل کچن' بروئے کار ہے۔ عام طور پر اس بحری راستے سے آنے والی امداد کو امریکی امداد ہی سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ نے بحری راستے سے اس امدادی سفر کو باضابطہ بنانے کے لیے اپنے پینٹاگون کے توسط سے غزہ سے متصل ایک عارضی بندرگاہ بنانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ جس کے بارے میں پینٹاگون کے ذرائع نے جمعہ ہی کے روز کہا ہے کہ یہ مئی کے پہلے ہفتے سے کام شروع کر دے گی۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے اس زیر تعمیر بندرگاہ کا جمعہ کے روز دورہ کیا تھا۔ ماضی میں اقوام متحدہ کے حکام کی یہ رائے رہی ہے کہ فضائی و بحری راستے امدادی سامان پہنچانے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ان دونوں راستوں سے بہت محدود امداد غزہ پہنچائی جاسکتی ہے۔

فضائی و بحری راستے سے امداد کی ترسیل کے ناقدین کا یہ کہنا بھی تھا کہ یہ عمل غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی اور زمینی راستوں سے امدادی سامان روکنے کی کوششوں کو سہولت دینے کے مترادف ہے۔ تاہم امریکہ نے اپنے بندرگاہ کے منصوبے کو جاری رکھا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک غزہ میں 34456 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ 77 ہزار سے زائد زخمی ہیں اور تقریباً غزہ کی ساری آبادی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں چھت سے محروم ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں