ایران کی جانب سے طلباء کے فلسطینی حامی مظاہروں کے خلاف امریکی کریک ڈاؤن کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے پیر کے روز امریکہ میں یونیورسٹی طلباء کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن پر تنقید کی جو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا، "امریکی حکومت نے انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور جمہوریت کے اُن اصولوں کے احترام کو عملاً نظر انداز کیا ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ تہران "تشدد کو روکنے والی پولیس اور فوجی رویے کو بالکل بھی قبول نہیں کرتا جس کا نشانہ تعلیمی ماحول اور طلباء کے مطالبات ہیں۔"

امریکی یونیورسٹیاں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں سے لرز اٹھی ہیں جو کیمپس میں طلباء کی پولیس سے جھڑپوں اور ہفتے کے آخر میں تقریباً 275 افراد کی گرفتاری کی وجہ بنے۔

یہ مظاہرے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے اور تب سے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے۔

ایران میں اتوار کو تہران اور دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد نے امریکہ کے طلباء مظاہروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے۔

تہران حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے سات اکتوبر کے حملے میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

ناصر کنعانی نے کہا، "حالیہ دنوں میں جو کچھ ہم نے امریکی یونیورسٹیوں میں دیکھا ہے، وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری اور عالمی رائے عامہ کی بیداری ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "پولیس کی کارروائی اور پرتشدد پالیسیوں کے ذریعے اس جرم اور نسل کشی کے خلاف مظاہرین کی بلند آوازوں کو خاموش کرنا ممکن نہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں