سعودی وامریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات: غزہ ۔ رفح اور مشرق وسطی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن کے ساتھ غزہ اور رفح کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ریاض میں موجود امریکی وزیر خاجہ کے ساتھ اس موضوع پر دونوں ملکوں اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان یہ دوسری بار تبادلہ خیال ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے پیر کے روز وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ غزہ کی پٹی اور رفح شہر کی صورتحال کو گفتگو کا موضوع بنایا۔ اس موقع پر غزہ میں فوری جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیا ۔

سعودی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی فوری کی کوششوں کی کوششوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
خیال کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ چین کے دورہ کے بعد عالمی اقتصادی فورم کی کانفرنس کا بھی حصہ بنے۔ تاہم پیر کے روز سے ان کا اسرائیلی کی غزہ میں جنگ کے تناظر میں مشرق وسطی کے ایک آور دورے کا آغاز ہو گیا ہے۔

ان کے مشرق وسطی کے دورے کا پہلا مرحلہ سعودی عرب سے شروع ہوا ہے۔ جہاں ان کی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ملاقات ہوئی اور خطے کی مجموعی صورت حال پر بھی غور کیا گیا ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق بلنکن خلیجی ممالک اور یورپ کے متعدد ہم منصبوں سے ریاض میں ملاقات کر چکے ہیں۔ وہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کے ایجنڈے پر بھی بات کر رہے ہیں۔

واضح رپے اقوام متحدہ کی جائزے کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں تقریبا سات ماہ بمباری کر کے جو تباہی مچائی ہے اس سے غزہ میں 37 ملین ٹن ملبے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ جنہیں اٹھانے کے لیے 14 سال لگ سکتے ہیں۔ بلا شبہ تعمیر نو کے لئے اسرائیل کی مچائی اس تباہی کے لئے اربوں ڈالر کی ضرورت یو گی۔

امریکی اہلکار کے مطابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اپنے دورہ مشرق وسطی میں پانچ عرب ممالک یعنی قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک اور ملاقات کریں گے۔ تاکہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی میں طرز حکمرانی کے بارے میں مزید بات چیت کی جا سکے۔

بلنکن الگ سے اردن اور اسرائیل بھی جائیں گے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے ایک سابقہ ​​بیان میں کہا تھا کہ بلنکن کی کوششیں غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے پر توجہ مرکوز کریں گی، وہ حماس کو فلسطینی عوام اور جنگ بندی کے درمیان رکاوٹ بیان کرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اپنے دورے کے ایک حصے کے طور پر اسرائیل اور اردن کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ دورہ بدھ کے روز تک جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں