سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسکاٹش فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے استعفیٰ دے دیا، جس سے برطانیہ کی اپوزیشن لیبر پارٹی کے لیے اس سال کے آخر میں متوقع قومی انتخابات میں اپنی سابق اسکاٹش ہارٹ لینڈ میں دوبارہ جگہ حاصل کرنے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 39 سالہ سیاست دان نے کہا کہ وہ اسکاٹش نیشنل پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے بھی دستبردار ہو جائیں گے لیکن جب تک ان کا جانشین نہیں مل جاتا وہ اس پوزیشن پر رہیں گے۔

حمزہ یوسف نے اسکاٹ لینڈ کے گرینز کے ساتھ اتحاد کے معاہدے کو ختم کرنے کی وجہ سے ایک ہفتے تک ہونے والی افراتفری کے بعد پیر کو سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔ اس کے بعد وہ اس ہفتے کے آخر میں ان کے خلاف متوقع عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

حمزہ یوسف کی حکومت اس سپے ہی گرینز کو ناراض کرتے ہوئے خالص صفر کاربن کے اخراج میں منتقلی کے اہداف کو ترک کر دیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن اسکاٹش کنزرویٹو نے یوسف پر عدم اعتماد کے ووٹ کی تحریک پیش کر دی۔ یہ عدم اعتماد کا ووٹ امکانی طور پر بدھ کے روز ہو سکتا ہے۔

سکاٹش لیبر نے ان کی حکومت پر ایک اور عدم اعتماد کا ووٹ درج کرایا ہے۔ اس صورت حال میں حمزہ یوسف کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ٹوریز، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس سبھی ان کے خلاف ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گرینز نے بھی بار بار ووٹ کے استعمال میں ان کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ اور انہیں البا پارٹی کے واحد قانون ساز کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البا کی ایش ریگن یوسف کی' اہس این پی ' میں ہی ساتھی رہ چکی ہیں۔ جنہوں نے مارچ 2023 کے لیڈر شپ الیکشن میں نکولا اسٹرجن کو فرسٹ منسٹر کے طور پر کامیاب کرانے کے لیے ان کے خلاف حصہ لیا۔

یوسف کی حامی آزادی پسند 'اہس این پی' کے 129 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 63 ارکان ہیں۔موجود ہیں۔ یہ تعداد سادہ اکثریت سے دو ووٹ کم ہے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کا ووٹ کاسٹنگ ہوتا ہے۔ ہے۔ اگر وہ استعفیٰ دے دیں تو پارلیمنٹ کے پاس نئے فرسٹ منسٹر کا انتخاب کرنے کے لیے 28 دن ہوں گے۔

1999 میں دوبارہ قائم ہونے والی سکاٹش پارلیمنٹ کے پاس صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور ماحولیات جیسے شعبوں میں پالیسی مرتب کرنے کے محدود اختیارات ہیں۔ لندن میں برطانیہ کی حکومت ملک گیر امور دفاع اور خارجہ پالیسی کے اختیارات اپنے پاس رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں