میت کے پاس رقص و موسیقی اور تابوتوں کی سجاوٹ، گھانا میں جنازوں پر عجیب رسم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عموما کسی کی وفات اس کے پیاروں کے لیے ایک صدمے اور غم کا موقع ہوتا ہے مگر افریقی ملک جمہوریہ گھانا میں فوتگی پر عجیب وغریب روایت چلی آ رہی ہے۔

گھانا میں کسی کی وفات پرغم اور صدمے کے بجائے جشن منایا جاتا ہے۔ جنازے کے جلوس کے ساتھ رقص کیا جاتا ہے اور جنازے کے تابوت کوخوبصورت نقش ونگار کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سب کچھ مرنے والے کی تکریم اور اس کی تعظیم کے لیے کیا جاتا ہے۔

سجے ہوئے تابوتوں اور خوش نما جنازوں کا واقعہ گھانا کے مختلف علاقوں میں میت کو وداع کرنے کی رسومات کا پتہ لگانے والے ہر فرد کے لیے حیرانی میں اضافہ کر دیتا ہے، کیونکہ کچھ خاندان اپنے میت کو ان رسومات کے ساتھ الوداع کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جن میں خوشگوار رقص، سجے ہوئے تابوت اور گانا بجانا بھی شامل ہوتا ہے۔ وہ اسے مرنے والوں کی تعظیم، خاندان کے غم کو کم کرنے اور جدائی کے لمحات پر قابو پانے میں ان کی مدد قرار دیا جاتا ہے۔

گھانا کے بعض باشندے میت کو اس کے تابوت میں رکھ کر اور اسے پھولوں اور اچھے الفاظ کے ساتھ الوداع کرتے ہیں۔ گھانا کے کچھ علاقوں میں مردہ شخص کو اس کے تابوت سے نکال کر درمیان میں اس کے لیے مختص ایک مرکزی نشست پر بٹھایا جاتا ہے۔ وہاں جنازے کی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میت بھی اپنے جنازے کی تقریب میں شریک ہے۔ اس تقریب میں مرنے والے کی یاد میں نوحہ خوانی کی جاتی ہے۔

میت کے پیشے کے مطابق تابوت

تابوت کے ڈھانچے کا انتخاب اکثر میت کے کام اور اس کے پیشے کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ جو لوگ ملاح یا ماہی گیرکے طور پر کام کرتے ہیں ان کے تابوت کو کشتی کی شکل میں بنایا جاتا ہے، اور جو استاد کے طور پر کام کرتے ہیں ان کا تابوت قلم کی شکل میں بنایاجاتا ہے۔

قلم کی شکل کا تابوت
قلم کی شکل کا تابوت

گھانا میں کارپینٹری ورکشاپس میں ہر پیشے کے لیے موزوں مختلف تابوت تیار کیے جاتے ہیں لیکن جن کے پاس میت کے لیے خصوصی تابوت بنانے کا وقت نہیں ہوتا وہ ان بنے بنائے تابوتوں سے کام چلاتے ہیں۔ اس حوالے سے گھانا کے محقق تھامس دیسی کہتے ہیں کہ "ہر پیشہ ورکے لیے اس کے پیشے کے حساب سے اپنا تاب وت ہوتا ہے۔ ہر میت کے خاندان کے ذوق اور پسند کے مطابق تابوت بنائے جاتے ہیں‘‘۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سےبات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تابوت جنازے کو ایک خاص کردار دیتے ہیں، ایک بار جب تابوت ظاہر ہو جاتا ہے تو ہر کوئی میت کے پیشہ اور اس کی مہارت کے بارے میں جان لیتا ہے کہ اگر وہ شخص پائلٹ تھا تو اس کا تابوت ہوائی جہاز کی شکل کا ہوگا۔

مرنے والوں کی تعظیم

محقق تھامس دیسی کہتے ہیں کہ گھانا کے تمام خطوں میں اس روایت کی پیروی نہیں کی جاتی ہے بلکہ یہ مخصوص علاقوں میں رائج ہے۔ خاص طور پر مغرب میں اس رواج کا معمول ہے جو میت کو رسمی طور پر منانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ کچھ لوگ عام تابوت اٹھانے اپنی زندگی میں کرید کر اس پر اپنی مرضی سے زندگی ہی میں نقش ونگار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تابوت اٹھانے والوں کی جانب سے کیے جانے والے رقص خوشی کے مواقع کے موقعے پر بھی کیے جاتتے ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں