فرانسیسی یونیورسٹی کو جنگ مخالف مظاہروں کی سزا، فنڈز روک لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیرس ریجن کی اتھارٹی نے ملک کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی 'سائنسز پو' کی فنڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ فنڈنگ کی معطلی سے ایک نئے تنازعہ کو جنم ملا ہے۔ فنڈنگ معطلی کا فیصلہ غزہ جنگ کی مخالفت کرنے والوں کے مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے۔


دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے والری پیکریسی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ 'سائنسز پو کی فنڈنگ اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ امن و سلامتی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی ہے۔ فنڈنگ معطلی کا یہ فیصلہ تمام علاقائی فنڈنگز سے متعلق ہے۔'

پیکریسی کے ایک ٹیم ممبر نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ 'علاقائی تعاون کی مد میں پیرس کی یونیورسٹی کے لیے 2024 میں 1 ملین یورو شامل ہیں۔

سائنسز پو کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر جین باسیرس نے کہا 'مجھے اس فیصلے پر افسوس ہے۔' تاہم منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں باسیرس نے کہا 'میں پیکریسی کے بیان کیے گئے مؤقف کی حمایت کرتا ہوں۔ نیز اسی مؤقف پر بات چیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔'

خیال رہے امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ جنگ کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں نے جس طرح انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح سائنسز پو کے طلبہ نے بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ جبکہ کئی طلبہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ سے پیدا شدہ انسانی بحرانی پر کافی پریشان ہیں اور ان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں