مصری طالبہ سزائے موت کا فیصلہ سن کر مسکرا دی، لوگ حیران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرکی ایک عدالت کی طرف سے اپنی سہیلی کے بےرحمانہ قتل کی ملزمہ کو سزائے موت سنائی تو قاتلہ سزا سن کر مسکرا دی۔

یہ واقعہ مصر کے علاقے طنطا کی ایک طالبہ کا ہےجس نے اپنی سہیلی کو قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔

عدالت کی طرف سے اسے سزائے موت سنائے جانے پرملزمہ مسکرائی۔ اس کے مسکرانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس پر سماجی حلقوں کی طرف سے رد عمل سامنے آیا ہے۔

ملزمہ آیہ نے اپنی سہیلی فرح کو قتل کرنے کے بعد ایک دوسرے شخص کی مدد سے اس کی لاش کے ٹکڑے کیے۔ دوسرے ملزم کو دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم جب اس کے خلاف سزا سنائی گئی تو اس کی مسکراہٹ نے مصر سب کو حیران کردیا۔ عدالت میں پیشی کے موقعے پر پہلے آیہ نے رونا دھونا شروع کیا اور اپنی بریت کا مطالبہ کیا جب کہ مقتولہ کے وکیل نے قاتل لڑکی کو سزائے موت دینے کا مطالبہ برقرار رکھا۔ سزا سنائے جانے کے دوران وہ خاموش کھڑی رہی۔ البتہ جب سزاسنائی گئی تو وہ مسکرائی۔ سزا سنائے جانے سے قبل عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ مفتی مصر کو بھیجا تھا جنہوں نے اس سزا کی توثیق کی جس کے بعد اعلان کیا گیا۔

استغاثہ نے ان ملزمان کو جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو پہلے سے سوچے سمجھے قتل اور مقتولہ کی لاش کو مسخ کرنے کے الزام میں آیہ کو سزائے موت سنائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں