اسرائیل کے خلاف کسی بھی جامع جنگ میں ایران کا ساتھ دیں گے:حوثی گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں غیر معمولی کشیدگی کے درمیان بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حوثیوں کے حملے جاری ہیں۔ یمن کے حوثی گروپ کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف وسیع جنگ شروع ہونےکی صورت میں وہ ایران کے ساتھ مل کر لڑنےکے لیےتیار ہیں۔

حوثی گروپ کے نائب میڈیا سیکرٹری نصرالدین عامر نے زوردے کر کہا کہ حوثی گروپ "مزاحمت کے محور میں اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔ انہوں نے نیوز ویک میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ" جنگ کی صورت میں ہم خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ کسی بھی اتحادی ملک کے خلاف کسی بھی بیرونی یا مغربی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے"۔

"ہم قائدانہ کردار ادا کریں گے"

انہوں نے وضاحت کی کہ "اگر مزاحمت کے محور میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ایک جامع جنگ شروع ہوتی ہے تو وہ اس جنگ میں قائدانہ کردار ادا کریں گے"۔ مزاحمت کے محور سے وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور مسلح دھڑوں کا حوالہ دیے رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران ان ممالک میں سے ایک ہے جن سے ہمارا اختلاف ہے مگر ہم اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے"۔

دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے
دمشق میں ایرانی قونصلیٹ کی ویب سائٹ سے

انہوں نے مزید کہا کہ "جب بات ان لوگوں کے ساتھ ہو گی جن کے ساتھ ہمارا اتحاد ہے جیسے کہ ایران اور مزاحمتی محور کی دوسری جماعتیں تو ہم یقینی طور پر پوری طاقت اور عزم کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے"۔

یہ بیانات حوثی رہ نما عبدالملک الحوثی کی جانب سے بحیرہ احمر اور بحر ہند دونوں میں اپنے حملوں کو بڑھانے کی دھمکی کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں۔

بحیرہ احمر سے
بحیرہ احمر سے

قابل ذکر ہے کہ 19 نومبر سے یعنی غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں 100 سے زائد بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں