امریکہ میں اسرائیل کے بائیکاٹ کی عوامی اپیل روکنے کے لیے ریاستوں کی سطح پر قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ میں ان دنوں اپنے عوام کے خلاف بھی اسی نوعیت کی قانون سازی مختلف ریاستوں کی سطح پر نظر آنے لگی ہے جس نوعیت کی قانون سازی اس سے پہلے عالمی سطح پر امریکی کانگریس میں بالعموم اپنے بیرونی اور انتہائی قسم کے دشمن ملکوں اور اقوام کے خلاف کی جاتی رہی ہے۔ امریکی ریاستوں میں اس طرز کی قانون سازی جن پر فرد کی آزادیاں کھلے عام متاثر ہوں شاذ و نادر ہی کی جاتی تھی۔

لیکن اب کئی امریکی ریاستوں نے اپنے ہاں یہ چلن شروع کر دیا ہے کہ ان کے عوام اگر کسی خاص فیکٹری یا ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ بلکہ کسی کمیونزم کے جبر کی مثالیں رکھنے والے ملک کی طرح بعض امریکی ریاستیں بھی اپنے عوام کی خواہش، آپشن اور رد و قبول کی فطری حق کو قومیائے ہوئے اور ریاستی ملکیت کے تصور کے تابع رکھنے کے رجحان کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ گویا اس معاملے میں بھی اب مرضی فرد کی نہیں ریاست اور اس کے حکمرانوں کی چلے گی۔

آزاد امریکی معاشرے کے گہرے تاثر میں امریکی ریاستیں اس طرز کی قانون سازی اسرائیل کی محبت میں کر نا ضروری سمجھنے لگی ہیں۔ کہ ہر امریکی شہری اسرائیل ، اس کی پالیسیوں اور اقدامات حتی کہ جنگوں کے بارے میں بھی اسی طرح سوچے جس طرح اسرائیل سوچتا ہے۔ مطلب یہ کہ اسرائیلی سوچ اور عمل کو بھی عام آدمی سطح پر لازمی فرض کے طور پر اختیار کرنے کی شروعات ہو رہی ہیں کہ اسرائیل کی طرح رہنا اور سوچنا ہے اس سے ہٹ کر نہیں ورنہ 'خیالات دہشت گرد ' بھی قرار پا سکتے ہو۔

یہ پابندی ان دنوں امریکہ کی مختلف ریاستیں اپنے شہریوں کی سوچ اور انتخاب کے حق پر امریکہ میں بیٹھے لوگوں پر لگا رہی ہیں۔ سب سے پہلا نشانہ بننے والے وہ امریکی نوجوان اور طلبہ کی اس تحریک کا ماحول بن رہا ہے۔ جس کی بنیاد امریکہ کی آزادانہ معاشرت اور آزادانہ سیاسی تصورات کی حامل امریکی یونیورسٹیوں میں دی جانے والے، کریٹیکل تھنکنگ، کی بنیاد پر دی جانے والی تعلیم کے پیش کار یا۔حاملین اساتذہ اور طلبہ و طالبات ہیں۔

' کریٹیکل تھنکنگ ' کے قالب میں ڈھلے ان طلبہ و طالبات نے پچھلے کئی ہفتوں سے غزہ کی جنگ میں عورتوں، بچوں اور عام فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی جنگ بند کرنے کی آواز اٹھا رکھی ہے۔ اس سے امریکہ کے گلی کوچوں میں عام آدمی کے سامنے اسرائیل کو وہ چہرہ آنے لگا ہے جو اس سے پہلے وہ کم ہی دیکھ پائے تھے۔ اس لیے رد عمل اور غصے میں آ کر وہ اسرائیلی مصنوعات کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جنگ کے حامی اداروں کی مصنوعات اور خیالات پر بھی امریکی عوام میں سوال اٹھنے میں امریکی یونیورسٹیوں کے طلبہ کی تحریک نے اہم کردار ادا کرنے کی شروعات کر دی ہیں۔

اسی کو روکنے کے لیے امریکہ کی کئی ریاستوں نے امریکی اندرونی ماحول اور کلچر کے لیے 'اجنبی' طرز کی قانون سازی شروع کر دی یے۔ لہذا ان متعدد امریکی ریاستوں نے اسرائیل کے بائیکاٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قانون سازی کی ہے جس کا۔مطلب ہے کہ کوئی فرد اسرائیل کا بائیکاٹ کرتا ہے یا اس کے بائیکاٹ کے لیے کہتا ہے تو یہ جرم ہو گا۔ گویا اسرائیل پورے کا پورا ہی اب امریکیوں کے لیے 'ہولو کاسٹ' سمجھا جائے گا۔ جو اس کے بارے میں بولے گا اس نئے قانون کی زد میں آ جائے گا۔ تو پھر سوال ابھرے گا کیا اس ' کریٹیکل تھنکنگ ' کی اپروچ بنانے سالے امریکی نظام تعلیم کو بھی بدلنے کا وقت آ رہا ہے۔ جس کی بنیاد پر امریکی نظام تعلیم کی ایک خاص اٹھان ہے۔

یہ نئی قانون سازی مگر سب امریکی ریاستوں کے لیے نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی بائیکاٹ، ڈائوسٹمنٹ سینکشنز 'بی ڈی ایس' کی اسراییل کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم فورم کی وجہ سے کئی امریکی ریاستیں یہ کر چکی ہیں کہ اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی کمپنیوں اور بائیکاٹ کی حامی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ۔کاری کرنے پر پابندی لگا چکی ہے۔

گویا جس بائیکاٹ 'بی ڈی ایس' عوامی شعور اور رائے کی بنیاد پر کرنے کی ایک رضاکارانہ کوشش کرتی رہی ہے اسے کئی امریکی ریاستوں نے ناکام بنانے کے لیے ایک دوسری نوعیت کی ریاستی بائیکاٹ مہم کو باقاعدہ قانون کی شکل دے رکھی ہے۔ یقینا کل کسی اعلی امریکی عدالت میں معاملہ گیا تو انفرادی رائے اور رضاکارانہ اپروچ کی بنیاد پر بائیکاٹ کرنا یا اس کے لیے کہنا ور ریاست جبر یا قانون کے لیے بائیکاٹ کرانے کے معنی الگ الگ ہوں گے اور تعبیریں بھی امکانی طور پر الگ الگ اطلاق پذیر ہوں گی۔

واضح رہے جن ریاستوں نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قانون پاس کیا ہے انہیں نیچے سرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے اور ان میں ٹیکساس، اوہائیو، الینوائے، انڈیانا، فلوریڈا، ایریزونا، جارجیا، آئیووا، پنسلوانیا، مشی گن، آرکنساس، مینیسوٹا، نیواڈا، جنوبی کیرولینا اور ٹینیسی کے علاوہ۔ الاباما، رہوڈ آئی لینڈ، نیو جرسی، اوکلاہوما، کنساس، نارتھ کیرولینا، یوٹاہ، مسوری، اڈاہو، ویسٹ ورجینیا، کولوراڈو، مسیسیپی اور نیو ہیمپشائر شامل ہیں۔ یوں امریکی ریاستوں کی بڑی تعداد جبری طر پر بائیکاٹ کی ترغیب دینے کے لیے قانون کا استعمال کر رہی ہیں۔ عوامی نمائندوں نے عوام ہی کے خلاف قانون بنا دیا۔

بہ شکریہ نیوزویک
بہ شکریہ نیوزویک

بتایا گیا ہے کہ جبری قوانین کی یہ اغلبا شروعات ٹرمپ کے دور کے دنوں میں انڈیانا ہو چکی تھیں۔ اسٹیٹ سینیٹ نے 2016 میں قانون سازی کی جس میں کسی بھی کمپنی کی ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے لازمی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا جو بھی 'اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، تقسیم، یا پابندیوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مصروف ہے' ۔اس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک کا مقابلہ کرنا جبکہ دوسری ریاستوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی BDS تحریک سے نمٹنے کے لیے اس طرح کے انتظامی احکامات جاری کیے۔ ان ریاستوں میں نیویارک، میری لینڈ، وسکونسن، لوزیانا، کینٹکی، اور ساؤتھ ڈکوٹا شامل رہے۔ ان ریاستوں کو اوپر کے نقشے میں گلابی رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مشرق وسطی اور ایشیائی ممالک کی طرح اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم اب امریکہ میں بھی اپنے لیے جگہ بنا رہی یے۔

الاسکا میں، گورنر مائیک ڈنلیوی نے رواں سال ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہے 'ریاستی ایجنسیوں کو ان اداروں کے ساتھ کاروباری لین دین بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہیں۔'

دوسری جانب بائیکاٹ مخالف قوانین کے ناقدین بھی ہیں۔امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) کا استدلال یہ ہے کہ' یہ قوانین 'تعصب کو روکنے کے لیے نہیں، بلکہ ناپسندیدہ سیاسی اظہار کے خلاف امتیاز کے لیے بنائے گئے ہیں۔' ACLU نے اسبارے میں مزید کہا' کسی ریاست یا کمپنی کے اقدامات کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اشیائے صرف اور خدمات خریدنے سے انکار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی شخص کو ان کی شناخت کی بنیاد پر عوامی رہائش تک رسائی سے انکار کیا جائے، جو کہ پہلی ترمیم کے تحت حق موجود ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں