اچانک دورے کے بعد ۔۔ مسک کو چین کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

معروف الیکٹرک کار ٹیسلا، مختصر پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس اور خلائی مہمات کے لیے راکٹ بھجنے والی کمپنی سپیس ایکس کے مالک ایلون مسک نے، اس مہینے کے شروع میں بھارت کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کرنے کے بعد اچانک چین جا کر ٹیسلا کے لیے ایک معاہدے پر بات کی ہے۔

مسک کا اچانک چین چلے جانا بھارت کے لیے ایک دھچکہ تھا کیونکہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی دشمنی کے ساتھ ساتھ تجارتی مسابقت بھی ہے۔ بھارت میں خود کو مسترد کیے جانے کا احساس پیدا ہوا اور اسے کئی بھارتی مبصرین نے تحقیر آمیز قرار دیا۔

بھارت کے دورے کی منسوخی سے قبل مسک نے طے شدہ پروگرام کے تحت گزشتہ ہفتے مودی سے ملاقات کرنی تھی اور تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے کار پلانٹ بنانے کا اعلان کرنا تھا۔ لیکن بعد ازاں انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ٹیسلا پر بہت بھاری زمہ داریاں ہیں ، اپنا ارادہ بدل لیا۔

ایلون مسک کا طیارہ چین میں۔ [رائیٹرز]
ایلون مسک کا طیارہ چین میں۔ [رائیٹرز]

تاہم بھارت نے مسک کو اپنے ملک میں لانے کے لیے سٹارٹ اپ کی ایک تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا جس میں انہیں شرکت کرنی تھی، لیکن وہ بھارت جانے کی بجائے اچانک چین چلے گئے۔

مسک نے اتوار کے روز چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی اور دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ میں اپنا جدید ڈرائیور اسسٹنٹ پیکج متعارف کرانے کے لیے پیش رفت کی۔

ایلون مسک کی چین آمد۔ [رائیٹرز]
ایلون مسک کی چین آمد۔ [رائیٹرز]

مودی کے مخالفین نے مسک کی جانب سے بھارت کا دورہ منسوخ کر کے چین چلے جانے پر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارت کے نیوز چینلز نے، جن کا چین کے بارے میں موقف زیادہ تر سخت اور تلخ ہوتا ہے، مسک کے اچانک چین کے دورے پر چلے جانے کی مذمت کی ہے۔

ڈیجٹل نیوز سروس ’نیوز نائین‘ نے پیر کی رات مسک پر ایک رپورٹ نشر کی جس کا ٹایٹل تھا، ’ہیلو چائنا، الوداع انڈیا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹیسلا پر بھاری ذمہ داریاں، بھارت کا دورہ منسوخ کرنے کے ایک ہفتے بعد چین کا دورہ۔

چین اور بھارت کےدونوں دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد ملک ہیں۔ دونوں کی معیشتیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ اور بھارت خطے میں ایک علاقائی دفاعی طاقت کے طور پر چین کے مدمقابل آنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سن 2020 میں چین اور بھارت کے درمیان سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ میں اس کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں کشیدگی ہے اور بھارت چین کے کئی معروف سوشل میڈیا ایپس پر پابندی لگا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں