رفح پرحملے کی سوچ غلط ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے حماس کو ختم کرنے کے لیے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملہ کرنے کے اعلان پر فرانس نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رفح پر اسرائیلی حملہ ایک برا خیال ہے اور اس سے مستقبل میں حماس کے خلاف جنگ کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔

اس بحث سے واقف ذریعہ نےمزید کہا کہ وزیر خارجہ اسٹیفن سیگورنی نے یروشلم میں نیتن یاھو کے دفتر میں ان سے ملاقات کے دوران کہا کہ "آپ کے لیے ایسا کرنا ایک برا خیال ہے، انسانی مسائل کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات ہیں"۔

رفح کا منظر
رفح کا منظر

'ناقابل برداشت کشیدگی'

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خبردار کیا کہ رفح پر کسی بھی اسرائیلی فوجی حملے سے "ناقابل برداشت کشیدگی" پیدا ہوگی۔

انہوں نے صحافیوں کو ایک بیان میں کہا کہ "رفح پر کوئی بھی فوجی حملہ ناقابل برداشت مسائل میں اضافہ کرےگا اور مزید شہریوں کی ہلاکت اور لاکھوں کو نقل مکانی پر مجبور کرے گا"۔

’اےایف پی‘ کے مطابق انہوں نے اسرائیلی حکام پر بھی زور دیا کہ وہ اس قسم کا کوئی آپریشن شروع نہ کریں۔

غزہ کے جنوب میں رفح شہر سے (رائٹرز سے محفوظ شدہ دستاویزات)
غزہ کے جنوب میں رفح شہر سے (رائٹرز سے محفوظ شدہ دستاویزات)

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے حملے سے غزہ کے فلسطینیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے اثرات مقبوضہ مغربی کنارے اور پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے۔

انہوں نےکہا کہ"سلامتی کونسل کے تمام ارکان اور بہت سے دوسرے ممالک نے واضح طور پر اس طرح کے آپریشن کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ میں ان تمام لوگوں سے کہتا ہوں جو اسرائیل پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں وہ اسرائیل کو رفح میں فوجی آپریشن سے روکیں‘‘۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کوایک بار پھر کہا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کی ڈیل کے باوجود وہ رفح میں فوجی کارروائی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں