غزہ میں جنگ بندی خطے میں کشیدگی پرقابو پانے کا موقع ہے:امریکی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے سے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں سمیت خطے میں دیگر کشیدگی پر قابو پایا جا سکے گا۔

ایکسیس ویب سائٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ غزہ پر کسی معاہدے تک پہنچنے سے اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑنے سے روکا جا سکتا ہے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ چھ ماہ کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن جنوبی غزہ میں رفح میں اسرائیل کی زمینی کارروائی سے بچنے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے رفح پر حملہ ملتوی ہو جائے گا۔ اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو اسرائیل بات چیت مکمل طور پرترک کردے گا۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ حماس کے ساتھ معاہدے اور رفح میں آپریشن کی فائلوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ بلنکن نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ واشنگٹن اب بھی رفح میں زمینی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے۔

رفح سے شہریوں کا انخلا شروع

یہ پیش رفت اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے منگل کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رفح سے شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور فوج شہر پر زمینی حملہ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

تاہم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ رفح کے رہائشیوں کو ابھی تک شہر خالی کرنے کے لیے نہیں کہا گیا ہے۔

جبکہ اسرائیلی اندازوں کے مطابق آبادی کے انخلاء کے عمل میں تقریباً دو سے تین ہفتوں تک توسیع کی توقع ہے۔

اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکہ کی قیادت میں کئی بین الاقوامی تنظیموں اور مغربی ممالک نے رفح میں جمع ہونے والے لاکھوں فلسطینی شہریوں کے تحفظ پر زور دینے کے بعد وہاں پر فوجی کارروائی سے گریز پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں