امریکی طلبہ کے احتجاج نے دنیا بھر کے یونیورسٹی طلبہ کو ہمنوا بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی جبر اور قبضے کے خلاف امریکی یونیورسٹیوں سے ابھرنے والی طلبہ بیداری کی لہر لبنان کی یونیورسٹیوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ منگل کے روز لبنان کی کئی یونیورسٹیوں میں اسرائیل کی بمباری سے غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں اور عورتوں سمیت ہلاکتوں پر مظاہرین نے سخت احتجاج کیا۔

یہ طلبہ امریکی یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات سے متاثر ہو کر اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے ہیں۔ وہ امریکی طلبہ جنہوں نے کولمبیا اور دوسری امریکی یونیورسٹیوں میں کئی دنوں سے دھرنے دے رکھے ہیں۔

لبنانی مظاہرین میں یونیورسٹیوں کے طلبہ ، ایلومینائیز اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔ جو دارالحکومت بیروت اور دیگر شہروں میں احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں امریکی طلبہ کی طرح فلسطینی پرچم تھے اور یہ ان کمپنیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے تھے جو اسرائیل کے ساتھ شراکت داری رکھتی ہیں یا غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل کی مددگار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

21 سالہ ریان کیلانی 150 سالہ پرانی امیریکن یونیورسٹی آف بیروت میں گریجوایشن کر رہی ہے۔ اس نے مظاہرے کے دوران کہا 'جب ہم دیکھتے ہیں کہ غزہ میں لوگ مر رہے ہیں۔ غزہ کے طلبہ کی تعلیم اور یونیورسٹیاں چھوٹ گئی ہیں۔ اب وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ یا اکیلے کیمپوں میں رہ رہے ہیں تو ان حالات میں ہمارے لیے اپنی ان ڈگریوں کی اہمیت نہیں رہتی۔ بلکہ ہماری ذمہ داری فلسطینیوں کو آزادی دلانے کے لیے زیادہ شدت اختیار کر جاتی ہے اور ہم دریا سے سمندر تک کے مطالبے کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔'

طالبہ ریان کیلانی نے کہا 'ہاں بلاشبہ ہم امریکی کولمبیا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے احتجاج سے بطور خاص متاثر ہوئے ہیں۔'

عرب دنیا میں غزہ کے حامی مظاہرین کافی خاموش رہے ہیں۔ حتیٰ کہ لبنان میں بھی جو مظاہرے منظم کیے گئے ہیں وہ فلسطینیوں کی طرف سے ہی کیے گئے ہیں۔ جن کی حمایت حزب اللّٰہ کرتا ہے۔

امریکین یونیورسٹی آف بیروت میں تقریباً دو سو مظاہرین کیمپس کے اندر جمع تھے۔ جنہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے دو گھنٹے تک احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی۔ بلاشبہ لبنان کی اس بڑی یونیورسٹی میں امریکی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں یہ ایک چھوٹا اور محدود وقت کے لیے مظاہرہ تھا۔ تاہم یہ مظاہرین اسرائیل کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ 'امریکہ مردہ باد' کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

مظاہرے میں شریک 19 سالہ علی المسلم نے کہا 'ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم نے فلسطینیوں کو بھلا نہیں دیا ہے۔ نہ ہی ہم فلسطین کاز کو بھولے ہیں۔ عرب دنیا کی نوجوان نسل فلسطین کاز کے ساتھ ہے۔'

علاوہ ازیں عرب دنیا میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے منگل کے روز اردن یونیورسٹی عمان میں بھی ایک ایسی ہی کال دے رکھی تھی۔ اس کال پر اردن میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب احتجاج کیا گیا۔

اس سے ایک روز قبل پیر کے روز تیونس کی یونیورسٹیوں اور گلیوں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ درجنوں ریلیاں تونس میں فلسطینی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئیں۔ یوں امریکی یونیورسٹیوں سے اٹھنے والی احتجاجی لہر پوری دنیا میں اپنا اثر دکھانے لگی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں