غزہ جنگ کے باعث بحیرہ احمر میں کشیدگی،ڈینش جہازراں کمپنی میرسک کا 13فیصدمالیاتی نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں تقریباً سات ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کے منفی معاشی اثرات نے بحیرہ احمر کے راستے ڈنمارک کی بین الاقوامی جہاز ران کمپنی میرسک کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے میں لے لیا۔ بحیرہ احمر میں امریکی و یورپی جہازراں کمپنیاں بھی اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف یمنی حوٹیوں کے حملوں کی زد پر ہیں۔ انہیں میں ایک کمپنی ڈنمارک کی میرسک بھی ہے۔

واضح رہے یمنی حوثیوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ ؤھ غزہ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اور غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف بطور رد عمل بحیرہ احمرہ سے گذرنے والے اسرائیل اور اس کے اتحادی ملکوں کے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔

نیز جب تک اسرائیل نے غزہ کی جنگ بندی اور جنگ جاری رکھی حوثی بھی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

حوثیوں کے حملوں کا یہ سلسلہ نومبر سے جاری ہے۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ نے مل کر کئی بار یمن کو نشانہ بنایا اور یمنی حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے رہے۔

علاوہ ازیں امریکہ نے ایک بین الاقوامی بحری اتحاد کی تشکیل بھی ممکن بنائی ہے۔ مگر حوثیوں کے حملے روکنے میں کامیابی اسرائیل کیا امریکہ کو بھی نہیں ملی ہے۔ جس کی وجہ سے تقریبا سبھی جہاز راں کمپنیوں کو اپنا سمندری راستہ تبدیل کر کے مقابلتاًً لمبا راستہ اختیار کر کے اپنے اخراجات بڑھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ڈنمارک کی قدیمی جہاز راں میرسک بھی اسی سبب رواں سال خسارے میں رہنے والی کمپنی ہے۔ میرسک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس قدیمی اور تجربہ کار کمپنی کا پچھلے سال کے پہلے تین ماہ کے مقابلے منافع 13 فیصد کم ہو گیا ہے۔ میرسک نے رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں $177 ملین کا خالص منافع رپورٹ کیا ہے۔۔مگر یہ پچھلے سال کی اسی ابتدائی سہ ماہی کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔

یہ ٹرن اوور 13 فیصد تک گر کر اب 12.4 ارب ڈالر رہ گیا، جو مالیاتی ڈیٹا فرم کے سروے کی پیش گوئی سے بھی کم ہے۔ اب اسے چار ارب ڈالر اور چھ ارب ڈالر کے درمیان بنیادی منافع کی توقع ہے، جو پہلے 1 ارب ڈالر سے 6 ارب سے زیادہ ہے۔

میرسک کے چیف ایگزیکٹیو ونسنٹ کلرک نے ایک بیان میں کہا ' ہماری کمپنی نے سال کا ایک مثبت آغاز کیا تھا جس کی پہلی سہ ماہی بالکل ٹھیک ترقی کر رہی تھی جیسا کہ ہماری توقع تھی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں