کولمبیا نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ کی وجہ سےتل ابیب کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔ تازہ پیش رفت میں کولمبیا نے اسرائیل کے ساتھ سفاتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔

کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے کل بدھ کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقعے پر اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ان کا ملک غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے جمعرات کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دے گا۔ دارالحکومت بوگوٹا کے مرکز میں واقع "بولیوار اسکوائر" میں جمع ہزاروں افراد کے مجمعے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم کل (آج جمعرات کو ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیں گے۔ کیونکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پردنیا کی خاموشی میں ہم چپ نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پرلکھا کہ "خوراک کے انتظار میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہاتھوں 100 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے۔ ہم اسے نسل کشی سمجھتے ہیں جو ہمیں ہولوکاسٹ کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ عالمی طاقتیں اسے تسلیم نہیں کرنا چاہتیں۔ اسی وجہ سے ہم نے اسرائیل سے ہر طرح کے ہتھیاروں اور ان کے پرزوں کی خریداری روک دی ہےے کولمبیا میں اپنے تمام ہتھیاروں کی خریداری اسرائیل سے کرتا ہے۔ پوری دنیا اپنی تمام رنگوں اور شکلوں میں لفظ غزہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔اسرائیل کے حملے فلسطینی عوام کا قتل عام ہیں۔

شدید تنقید

کولمبیا کے صدر نے اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کےساتھ مل کر غزہ میں فلسطینی نسل کشی کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست میں اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں "نسل کشی" کا الزام لگایا تھا جب کہ اسرائیل نے کولمبیا کے اس موقف کو حماس کے لیے "انعام" قرار دیا تھا۔

کولمبیا جنوبی امریکہ کا دوسرا ملک ہے جس نے اسی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے، جب کہ ہمسایہ ممالک کولمبیا اور چلی نے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔ غزہ کی پٹی اور فلسطینیوں کے قتل کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں