آسٹریلیا کی یونیورسٹیوں میں بھی فلسطین کی حمایت میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد نے جمعہ کے روز آسٹریلیا کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں ریلی نکالی اور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ختم کر دے۔ یہ تحریک امریکی تعلیمی اداروں کے کیمپسز میں پھیلے ہوئے احتجاجی کیمپوں سے متأثر ہو کر شروع کی گئی ہے۔

فلسطین کے حامی کارکنان نے آسٹریلیا کے سب سے بڑے ثلاثی تعلیمی اداروں میں سے ایک یونیورسٹی آف سڈنی کے سنگِ ریگ سے بنے مرکزی ہال کے باہر گذشتہ ہفتے ایک کیمپ لگایا۔

اسی طرح کے کیمپ میلبورن، کینبرا اور آسٹریلیا کے دیگر شہروں کی یونیورسٹیوں میں بھی پھیل چکے ہیں۔

امریکہ میں پولیس نے کئی کالجوں سے بڑی تعداد میں فلسطینی حامی مظاہرین کو زبردستی ہٹا دیا ہے۔ اس کے برعکس آسٹریلیا میں احتجاجی مقامات پولیس کی کم موجودگی کے ساتھ پرامن رہے ہیں۔

جمعے کے روز مظاہرین نے سڈنی یونیورسٹی سے اسرائیل سے تعلقات رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی جو امریکہ، کینیڈا اور فرانس کے طلبہ کے مطالبات کی گونج میں تھی۔

نعرے لگاتے ہوئے 300 سے زیادہ افراد کے ہجوم میں اپنے دو سالہ بیٹے کو کندھوں پر لے کر کھڑے ہوئے 39 سالہ میٹ نے کہا، وہ یہ بتانے کے لیے آئے ہیں کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں سے صرف طلباء ناراض نہیں تھے۔

انہوں نے اپنا آخری نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے رائٹرز کو بتایا، "ایک بار جب آپ سمجھ جائیں کہ کیا ہو رہا ہے تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کوشش کر کے اس میں شامل ہوں، بیداری پیدا کریں اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔"

سڈنی یونیورسٹی کے احتجاج سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر سینکڑوں افراد تھے جنہیں سکیورٹی گارڈز کی قطاروں نے الگ کر دیا تھا۔ وہ آسٹریلوی اور اسرائیلی پرچموں تلے جمع ہو کر مقررین کو سن رہے تھے جنہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حامی مظاہروں سے کیمپس میں موجود یہودی طلباء اور عملے نے خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔

نتائج کے خوف سے اپنا نام بتانے سے انکار کرنے والی ایک تعلیمی ماہر سارہ نے کہا، "کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ 'انتفاضہ' اور 'دریا سے سمندر تک' کا نعرہ لگاتے ہوئے کیمپس سے گذرنا خوفناک ہے۔"

یونیورسٹی آف سڈنی کے وائس چانسلر مارک سکاٹ نے جمعرات کو مقامی میڈیا کو بتایا کیمپس میں فلسطینی حامی مظاہرین کا کیمپ جزوی طور پر اس وجہ سے قائم رہ سکتا ہے کیونکہ وہاں امریکہ جیسا تشدد نہیں دیکھا گیا۔

جبکہ یونیورسٹی کے داخلی دروازے پر پولیس کی کئی گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن دونوں میں سے کسی بھی احتجاج میں پولیس موجود نہیں تھی۔

اسرائیل کا دیرینہ مضبوط اتحادی آسٹریلیا غزہ میں اس کے طرزِ عمل پر تیزی سے تنقید کرنے لگا ہے جہاں گذشتہ ماہ اسرائیلی حملے میں ایک آسٹریلوی امدادی کارکن مارا گیا تھا۔

فلسطین کے حامی مظاہرین نے کہا کہ حکومت نے امن قائم کرنے کے لیے کافی کام نہیں کیا اور وزیرِ اعظم انتھونی البانی اور ان کی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ہجوم کی قیادت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں